شوپیان سانحہ پر اسمبلی میں ہنگامہ ، فوجی اہلکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ-

ایف آئی آر درج کرنے کے بعد مجسٹرئیل انکوائری سے تذبذب پیدا ہوگیا:اپوزیشن
جموں/کشمیر نیوز سروس/’’قانون سازاسمبلی میں شوپیان ہلاکتوں اورمسئلہ کشمیرکی گونج‘‘کے دوران اپوزیشن ارکان نے دومعصوم نوجوانوں کی ہلاکت میں ملوث فوجی اہلکاروں کی فوری گرفتاری کامطالبہ کیا۔تاہم سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے مخصوص ایف آئی آرکی موجودگی میں مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات پرسوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ بیک وقت دواقدامات روبہ عمل لاکرتحقیقاتی عمل میں کنفیوژن پیداکیاگیا۔انہوں نے سوال کیاکہ اگرپولیس نے اپنے درج مقدمے میں فوجی یونٹ اوراسکے افسرکانام شامل کیاتھاتومجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادرکرنے کی کیاضرورت تھی۔علی محمدساگر نے فوجی اہلکاروں کی گرفتاری کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک تلخ مگرمسلمہ حقیقت ہے کہ کشمیرایک تنازعہ ہے ۔پی ڈی پی کے ممبراسمبلی شوپیان ایڈووکیٹ محمدیوسف بٹ نے شہری ہلاکتوں کوناقابل قبول قراردیتے ہوئے سوالیہ اندازمیں کہاکہ ایک جانب وزیراعظم مودی کشمیریوں کوسینے سے لگانے کی بات کرتے ہیں اوردوسری جانب کشمیری نوجوانوں کے سینوں میں گولیاں پیوست کی جاتی ہیں ۔تاہم مخلوط سرکارمیں شامل جماعت بی جے پی کے کچھ ممبران نے فوج کیخلاف درج کئے گئے مقدمے کوواپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے اقدامات سے ملی ٹنسی کیخلاف نبردآزمافوج کی حوصلہ شکنی ہوگی۔سوموارکوجب رواں بجٹ اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی توتوقع کے عین مطابق اپوزیشن ارکان نے شوپیاں میں سنیچرکے روزدونوجوانوں کی ہلاکت کامعاملہ قانون سازکونسل میں پورے زورکیساتھ اُٹھایا۔نیشنل کانفرنس،کانگریس اوردیگراپوزیشن جماعتوں کے ممبران نے ’قاتل سرکارہائے ہائے ،حساب دئوحساب دئو،موت کاحساب/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 دئو‘جیسے تندوتلخ نعرے بلندکرتے ہوئے ایوان میں ان ہلاکتوں پرکھلی بحث کامطالبہ کیا۔گرچہ اسپیکرکویندرگپتانے اپوزیشن ارکان کے شورشرابے کے باوجوداجلاس کی کارروائی جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ آرائی اورنعرے بازی کاسلسلہ جاری رکھا۔سبھی اپوزیشن ارکان نے پہلی قطارمیں کھڑے ہوکرایوان میں شوپیان ہلاکتوں پربحث کامطالبہ جاری رکھا۔اسپیکرنے مزاحمت کی لیکن وزیراعلیٰ نے مداخلت کرتے ہوئے اسپیکرکویندرگپتاکومشورہ دیاکہ اس ایوان میں شوپیان ہلاکتوں پربحث کی اجازت دی جائے ۔وزیراعلیٰ کی اپیل پراسپیکربحث کی اجازت دی توعمرعبداللہ ،علی محمدساگراوردیگرکئی اپوزیشن ممبران نے ایوان میں اپنے اپنے خیالات کااظہارکرتے ہوئے یہ پُرزورمانگ کی کہ شوپیان ہلاکتوں میں ملوث فوجی اہلکاروں کی گرفتاری عمل میں لاکراُنھیں قانون کے کٹہرے میں لاکھڑاکیاجائے ۔سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے وزیراعلیٰ کوہدف تنقیدبناتے ہوئے کہاکہ محبوبہ مفتی صرف لاشوں پرسیاست کرناجانتی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ شوپیان ہلاکتوں کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادرکرنے کے بعدپولیس کی جانب سے مخصوص ایف آئی آردرج کئے جانے سے یہ سارامعاملہ ہی بگڑگیا۔عمرعبداللہ کاکہناتھاکہ اب اس معاملے میں تذبذب پیداہوگیاہے کیونکہ ایک جانب مجسٹرئیل انکوائری ہوگی اوردوسری جانب پولیس درج یاف آئی آرکے تحت اپنی کارروائی کوآگے بڑھانے کی پابندہے۔انہوں نے سوال کیاکہ اگرپولیس نے اپنے درج مقدمے میں فوجی یونٹ اوراسکے افسرکانام شامل کیاتھاتومجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادرکرنے کی کیاضرورت تھی ۔سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ دراصل یہ انکوائری احکامات اسی لئے دئیے گئے تاکہ پولیس کی تحقیقات میں اڑچن پیداہوجائے ۔انہوں نے کہاکہ مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات تب صادرکئے جاتے ہیں جب ملزمان کی نشاندہی نہ کی گئی ہولیکن جب پولیس نے اپنے ایف آئی آرمیں ملزمان کانام درج کیاتھاتوایسے میں مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات صادرکرنامشکوک ہے۔انہوں نے اسبات پرزوردیاکہ درج ایف آئی آرکے تحت اب یہ پولیس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائے ۔انہوں نے کہاکہ حساس معاملات پربھی پی ڈی ی اوربی جے پی کے درمیان کوئی ہم آہنگی یااتفاق رائے نہیں ۔ایک جماعت شوپیان ہلاکتوں میں ملوث فوجیوں کوسزادینے کامطالبہ کرتی ہے تودوسری جماعت ایف آئی آرکوواپس لینے کی مانگ کرتی ہے ۔تاہم عمرعبداللہ نے یہ واضح کیاکہ اُنکی جماعت وزیراعلیٰ کواسبات کیلئے پوراتعاون دینے کوتیارہے اگرکشمیرمیں بحالی امن کیلئے کارگراقدامات اُٹھائے جاتے ہیں ۔ شوپیان ہلاکتوں پربحث کی شروعات کرتے ہوئے ممبراسمبلی خانیارعلی محمدساگرنے مطالبہ کیاکہ شوپیان میں دونوجوانوں کوموت کی نیندسلادینے والے فوجی اہلکاروں کوگرفتارکیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ مجھے اُمیدہے کہ وزیراعلیٰ ایوان میں اسبات کااعلان کریں گی کہ فوجی اہلکاروں کوحراست میں لیاجائیگا۔علی محمدساگرنے اپنی تقریرکے دوران کشمیرمسئلے کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک تلخ مگرمسلمہ حقیقت ہے کہ کشمیرایک تنازعہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس تنازعے کومذاکرات کے ذریعے حل کیاجاسکتاہے لیکن اسکے برعکس کشمیرمیں کشت وخون کاکھیل جاری رکھاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ ملوث فوجیوں کی گرفتاری عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ مجسٹرئیل انکوائری کوپندرہ دنوں میں مکمل کیاجائے ۔شوپیان ہلاکتوں پرہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکمران جماعت پی ڈی پی کے ممبراسمبلی شوپیان ایڈووکیٹ محمدیوسف بٹ نے بھی دونوجوانوں کی ہلاکت میں ملوث فوجی اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کی مانگ کی ۔انہوں نے کہاکہ کشمیرمیں ہلاکتوں کاسلسلہ بندہوناچاہئے اورجس کسی واقعہ میں سیکورٹی اہلکارملوث ہوں وہاں اُن کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے ۔ممبراسمبلی محمدیوسف بٹ نے کہاکہ ایک جانب وزیراعظم مودی کشمیریوں کوسینے سے لگانے کی بات کرتے ہیں اوردوسری جانب کشمیری نوجوانوں کے سینوں میں گولیاں پیوست کی جاتی ہیں ۔انہوں نے خبردارکیاکہ شہری ہلاکتوں کے واقعات سے بحالی امن واعتمادکی کوششوں پرپانی پھرجائیگا۔محمدیوسف بٹ کامزیدکہناتھاکہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اوراس کوسیاسی عمل یعنی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتاہے ۔تاہم مخلوط سرکارمیں شامل جماعت بی جے پی کے کچھ ممبران نے فوج کیخلاف درج کئے گئے مقدمے کوواپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے اقدامات سے ملی ٹنسی کیخلاف نبردآزمافوج کی حوصلہ شکنی ہوگی۔بی جے پی ممبرآرایس پٹھانیہ کاکہناتھاکہ پولیس تھانہ میں فوج کیخلاف درج کیاگیاایف آئی آرحوصلہ شکنی پرمبنی ہے ،اسلئے درج ایف آئی آرکوواپس لیکرایسانیاایف آئی آردرج کیاجائے جس میں فوج کاکوئی ذکریاکسی فوجی افسریایونٹ کانام نہ ہو۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں