H1N1 اب وبائی صورتحال اختیار کرنے لگا

 اس انکشاف کے بعد لوگوں میں پھر سے فکر و تشویش کا اظہار کیاجانے لگا ہے جس میں بتایا گیا کہ صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں H1N1انفلوئینزا میں مبتلا مزید دو افراد کی موت ہوئی ہے۔ اس طرح سوائین فلو یعنیH1N1میں مبتلا افراد میں مرنے والوں کی تعداد32 پہنچ گئی ہے جبکہ مزید دو کی حالت غیر مستحکم بتائی جاتی ہے۔ اس بارے میں گذشتہ دنوں ریاستی اسمبلی میں وزیر صحت نے اس بات کا خلاصہ کیا کہ وادی میں اس بیماری میں مبتلا افراد میں سے بعض کی حالت انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر قابو پانے کیلئے حکومت موثر اقدامات کررہی ہے اور ویکسینیشن کا دائیرہ وسیع کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں لیکن زمینی حقایق کا جہاں تک تعلق ہے تو ریاستی حکومت یعنی محکمہ صحت کی طرف سے اس جان لیوا بیماری پر قابو پانے کیلئے کوئی بھی موثر کاروائی نہیں کی جاتی ہے۔ لوگ پریشان حال ہیں اور حکام ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں جن کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ لوگوں کی فکر و تشویش کس طرح دور کی جائے گی۔ عام لوگوں کیلئے یہ ویکسین کسی بھی جگہ دستیاب نہیں ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی جانکاری مہم چلائی جاتی ہے کہ اس بیماری سے کس طرح بچا جاسکتا ہے اور کو ن کون سے احتیاطی طریقے اختیار کئے گئے ہیں جن سے لوگوں کواس جان لیوا بیماری میں مبتلا ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ اگر یہ بیماری لاگ دار نہیں تو یہ بھی بتایا جائے اور اگر لاگ دار ہے تو اس بارے میں بھی لوگوں کو واقفیت دی جانی چاہئے۔ ایک اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرہ ارض کے شمالی علاقوں میں یہ بیماری سردیوں میں جبکہ جنوبی علاقوں میں یہ بیماری گرمیوں میں پھیلتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک وائیرس ہے جو بڑی آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوجاتاہے۔ بنیادی طور پر چار قسم کے انفلوئنزا دریافت ہوچکے ہیں جو کہ ٹایپ اے بی سی ڈی ہیں جن میں ٹائیپ اے اور بی زیادہ پھلینے والے ہوتے ہیں۔ اس بیماری کی علامات اچانک بخار ہونا، خشک کھانسی، سر، پٹھوں اور جوڑوں میں درد ، گلے میں خراش اور ناک کا بہنا شامل ہیں۔ یہ شدید بیماری سے لے کر موت بھی لاسکتی ہے اسلئے اس پر قابو پانے کیلئے فوری طور ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر اس وقت پانچ ملین لوگ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ غرض اس وقت وادی میں لوگ انتہائی پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیں اور ان کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ اس جان لیوا بیماری سے بچنے کیلئے کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں۔ کوئی اس بیماری کا علاج آیورویدک ادویات سے کروانے کی صلاح دیتا ہے اور کوئی کہتا ہے کہ صرف انگریزی ادویات کا استعمال کرنے سے ہی اس بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ لیکن عام آدمی کو اس بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیانہیں کرنا ہے۔ نیم حکیم ہر گلی کوچے میں ملتے ہیں جو الگ الگ مشورے دیتے ہیں لیکن آج کل پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کا ہر طرف جال بچھا ہوا ہے حکومت اگر چاہئے گی تو اس بیماری سے بچائو کیلئے بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلاسکتی تھی لیکن محکمہ صحت کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بارے میں لوگوں کوجانکاری دی جائے اور ویکسینیشن کا پروگرام عام کیاجائے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں