گنہ پورہ شوپیان میں مظاہرین پر فوج کی فائرنگ ، 2نوجوان جاں بحق

ایک درجن سے زیادہ افرادگولیاں لگنے سے زخمی، 3کی حالت نازک ، ایک نوجوان کو انتہائی نگہداشت والے وارڈ میںمنتقل کیاگیا- پولیس نے فوج کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا، ڈویژنل کمشنر کی طرف سے واقعے کی مجسٹرئیل انکوائری کے احکامات ، ڈپٹی کمشنر تحقیقاتی آفیسر مقرر
شوپیان /نیازحسین /جے کے این ایس /کے این ایس /سی این ایس /گنہ پورہ شوپیاں میں فوج نے راہگیروںپر بندوقوں کے دہانے کھولے جس کے نتیجے میں 11افراد گولیاں لگنے سے شدید طورپر زخمی ہوئے جن میں سے 2کی اسپتال میں موت واقع ہوئی ۔ دو عام شہریوں کی موت واقع ہونے کی خبر پھیلتے ہی شوپیاں ، پلوامہ اور کولگام میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور ملوث فوجی اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ۔ مقامی لوگوں کے مطابق گنہ پورہ میں سہ پہر کے بعد فوجی گاڑیاں نمودار ہوئی جس دوران معمولی سنگباری ہوئی تاہم فوجی اہلکار وں نے نوجوانوں پر بندوقوں کے دہانے کھولے اور اُن پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے ایک درجن کے قریب نوجوان خون میں لت پت ہوئے ۔ چیف میڈیکل آفیسر شوپیاں نے اس بات کی تصدیق کی کہ گولیاں لگنے سے زخمی دو نوجوانوں کی اسپتال میں موت واقع ہوئی ہے۔ دریں اثنا ایس ایس پی شوپیاں نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فوج کے خلاف کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ ادھر ڈویژنل کمشنر کشمیر نے ڈپٹی کمشنر شوپیاں کو انکوائری آفیسر مقرر کرکے 15دنوں کے اندر اندر رپورٹ پیش کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 گنہ پورہ شوپیاں میں اُس وقت سنسنی اور خو ف و دہشت کا ماحول پھیل گیا جب فوجی اہلکاروں نے معمولی پتھراو کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے بندوقوں کے دہانے کھولے جس کے نتیجے میں 12افراد خون میں لت پت ہو گئے اگر چہ لوگوں نے زخمیوں کو فوری طورپر نزدیکی اسپتال پہنچایا تاہم ڈاکٹروں نے 18سالہ جاوید احمد بٹ ساکنہ بلہ پورہ اور 20سالہ سہیل جاوید لون ساکنہ راولپورہ شوپیاں کو مردہ قرار دیا جبکہ شدید زخمیوں سے دو کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ نمائندے کے مطابق دو عام شہریوں کی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی پہاڑی ضلع شوپیاں ، پلوامہ اور کولگام میں سراسیمگی پھیل گئی اور کثیر تعداد میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر فوج کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے ۔ نمائندے کے مطابق گنہ پورہ شوپیاں ، گول چکر ، بلہ پورہ ، راولپورہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر آئے اور گنہ پورہ کی طرف پیش قدمی شروع کی جس دوران پورا علاقہ اسلام و آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ نمائندے کے مطابق اگر چہ ضلع انتظامیہ نے مزید کسی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے پولیس وفورسز کی تعیناتی عمل میں لائی تاہم لوگوں کے تیور دیکھ کر سیکورٹی فورسز کو واپس بلایا گیا ۔ذرائع کے مطابق شوپیاںمیں حالات کشیدہ اور پُر تنائو بنے ہوئے ہیں ، ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نوجوانوں کی نعشوں کو کاندھوں پر اٹھا کر انہیں اپنے اپنے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کیا ۔ نمائندے نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ عام شہریوں پر بندوقوں کے دہانے کھولنے اور دو نوجوانوں کی موت واقع ہونے پر لوگوں میں شدید غم وغصہ پایا جارہا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق معمولی سنگباری ہو رہی تھی دونوجوانوں کی جانوں کو بچایا بھی جاسکتا تھا اگر فوجی اہلکار اپنے غصے پر قابو رکھ پاتے تاہم ابھی گاڑی پر پتھر بھی نہیں لگا تھا کہ فورسز اہلکاروں نے نوجوانوں پر بندوقوں کے دہانے کھولے۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پتھراو کی آڑ میں فوج نے راہ چلتے عام شہریوں پر بھی گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ زخمیوں کو شوپیاں ، پلوامہ اور سرینگر کے اسپتالوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ چیف میڈیکل آفیسر شوپیاں نے اس بات کی تصدیق کی کہ دو نوجوان جنہیں گولیاں لگیں تھیں کہ موت واقع ہوئی ہے۔ سی ایم او کے مطابق جسم میں گولیاں پیوست ہونے کے باعث نوجوان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔دریں اثنا ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے شوپیاں میں فوج کے ہاتھوں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شوپیاں محمد اعجاز کو نکوائری آفیسر مقرر کرکے فوری طورپر رپورٹ پیش کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر نے ڈپٹی کمشنر کو 15روز کے اندر اندر ڈویژنل کمشنر آفیسر میں رپورٹ جمع کرنے کا فرمان جاری کیا ہے۔ جے کے این ایس نے اس ضمن میں جب ایس ایس پی شوپیاں ایس ایس امبارکر کے ساتھ رابط قائم کیا تو اُن کا کہنا تھا کہ فوج کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق نوجوانوں کو کیسے گولیاں لگی اس ضمن میں بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کی گئی ہے اور جوکوئی بھی اس ضمن میں ملو ث قرار پائے گا اُس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں