نوجوانوں کیلئے ایمنسٹی کےاعلان کا خیر مقدم

گذشتہ دنوں اسمبلی میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جو نوجوان دومرتبہ سنگ باری کے مرتکب ہوئے ہوں اور ان کیخلاف پولیس نے کیس بھی درج کئے ہونگے ان کو بھی عام معافی کے دائرے میں لایا جائے گا اور یہ تجویز ریاستی حکومت کے زیر غور ہے۔ وزیر اعلیٰ کے اس بیان کے دو دن بعد ہی مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اس بات اعلان کیا کہ کشمیر میں قیام امن کیلئے مرکز نے سات نکاتی فارمولے کو منظوری دی ہے جس کے تحت سنگ بازوں کو عام معافی کے دائیرے میں لانا بھی شامل ہوسکتا ہے اس کے علاوہ انسانیت کے ناطے نوجوانوں اور طلبہ کی دوبارہ بہتر زندگی گذارنے کا موقعہ فراہم کرنا ہوگا۔ سنگین جرائم میں ملوث نہ ہونے والے سنگبازوں کے کیسوں کی کتاب بند کردی جائے گی جبکہ نئی سرنڈر پالیسی پربھی غور کیاجائے گا۔ جب وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں سنگ بازوں کو دوسری مرتبہ عام معافی دینے کا اعلان کیا توعوامی حلقوں نے اس کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا کیونکہ جس کسی نوجوان کیخلاف پولیس میں ایف آئی آر درج ہوتا ہے تو جب تک اس بارے میں کورٹ کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتا یہ عمر بھر اسکے لئے ناسور بن کر رہ جاتا ہے کیونکہ نہ تو ایسے نوجوانوں کو نوکری مل سکتی ہے اور نہ ہی وہ پاسپورٹ حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ پولیس ویری فیکیشن کے وقت ان کا سارا کیس متعلقہ ایجنسیوں کو فراہم کیاجاتا ہے جس کی بنائ پر نہ تو ایسے نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کی جاتی ہیں اور نہ ہی وہ پاسپورٹ وغیرہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے کیسوں کی کتاب جیسا کہ وزیر داخلہ نے اشارہ دیا ہے بند کردی جائے گی تو وہ آزاد فضا میں سانس لے سکتے ہیں۔ کیونکہ جن نوجوانوں کو گرفتار کیاگیا ان کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کو جرم بے گناہی کی پاداش میں پکڑا گیا اور اگر اب ریاستی اور مرکزی حکومت دونوں نے ایسے نوجوانوں کیخلاف دائر کئے گئے کیس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے ان نوجوانوں کا مستقبل سنور سکتا ہے ۔ لیکن اب بھی بہت سے ایسے نوجوان جو دوسرے الزامات کے تحت نظر بند ہیں یا جن کیخلاف عدالتوں میں سیاسی یا عسکری نوعیت کے کیس رواں ہیں کو بھی عام معافی کے دائرے میں لایا جانا چاہئے کیونکہ اگر کسی نے جانے انجانے معمولی سی بھی غلطی کی اور اس کو عمر بھر کیلئے ایسی سزا نہیں ملنی چاہئے جس سے اس کا مستقبل تاریک بن جائے گا۔ کشمیری نوجوانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ان کی خواہشات کی تکمیل لازمی ہے جبر و تشدد کسی بھی مسلئے کا حل نہیں اس سے حالات بگڑتے ہی ہیں اسلئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو چاہئے کہ ان تمام نوجوانوں کیخلاف کیس واپس لئے جائیں جو کسی نہ کسی الزام کے تحت قانون کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں