ہڑتالوں اور ایجی ٹیشنوں کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے:گورنر

یوم جمہوریہ پر جموں کے مولانا آزاد سٹیڈیم میں رنگارنگ تقریب،وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی موجودگی میں گورنر نے ترنگا لہرایا، پریڈ پر سلامی لی اور خطاب کیا- سرینگر کے شیر کشمیر سٹیڈیم میں سینئر وزیر عبدالرحمان ویری نے پرچم لہرایااور پریڈ پر سلامی لی
جموں/سرینگر/یو این آئی /کے ایم این/ جموں وکشمیر کے گورنر نریندر ناتھ ووہرا نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہڑتالوں اور ایجی ٹیشنوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ بقول ان کے ’ان ہڑتالوں اور ایجی ٹیشنوں سے ہر شعبہ زندگی متاثر ہورہا ہے‘۔ انہوں نے ایجی ٹیشنوں میں نوجوانوں کی شرکت پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ ہمارا سیاسی نظام اور سماج ان کو ایجی ٹیشنوں میں شامل ہونے سے بچانے کی ہمت نہیں کرپایا ہے‘۔ گورنر ووہرا نے کہا کہ ایسے اقدامات اٹھائے جانے چاہیے جن کی بدولت نوجوانوں کو تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے روکا جاسکے۔ انہوں نے کسی مخصوص سیاسی جماعت یا تنظیم کا نام لئے بغیر کہا ’میں ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور سبھی سماجی، مذہبی اور تہذیبی اور دیگر تنظیموں کے رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ روز روز کی ایجی ٹیشنوں اور ہڑتالوں کی وجہ سے معمول کی زندگی پر منفی اثرات پڑرہے ہیں‘۔ مسٹر ووہرا /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو یہاں 69ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر مولانا آزاد اسٹیڈیم میں منعقدہ ریاستی سطح کی پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، ریاستی کابینہ کے متعدد وزرائ، سیول و پولیس انتظامیہ کے عہدیداروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ گورنر نے پڑوسی ملک پاکستان پر گذشتہ 30 برسوں سے جموں وکشمیر میں پراکسی وار ﴿درپردہ جنگ﴾ اور تشدد و افراتفری کو ہوا دینے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں پاکستان نے زیادہ سے زیادہ جنگجوؤں کو کشمیر بھیجنے کی کوششیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر لگاتار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں سرحدی آبادی کو شدید طور پر متاثر ہونا پڑا۔ گورنر ووہرا نے کہا کہ سرحدوں پر پائیدار امن سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان بہتر اور اچھے تعلقات قائم ہوں گے۔ انہوں نے عسکریت پسندی کا راستہ چھوڑ کر گھروں کو واپس آنے والے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے پوری امید ہے کہ ایسے دوسرے نوجوان بھی جلد از جلد تشدد کا راستہ چھوڑ کر گھروں کو واپس لوٹ آئیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل محاذ آرائی سے نہیں بلکہ بات چیت سے ہی نکل سکتا ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکز کے ’نمائندہ برائے کشمیر‘ دنیشور شرما کی کوششوں کے نتیجے میں ریاست میں امن کی بحالی میں مدد ملے گی۔ گورنر موصوف نے وادی میں بار بار کی ہڑتالوں اور ایجی ٹیشنوں پر بات کرتے ہوئے کہا ’ میں نے کئی بار کہا ہے کہ بار بار کی ہڑتالوں اور ایجی ٹیشنوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ان کی وجہ سے معمول کے حالات پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ نامساعد حالات کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے اور تعلیم کے شعبے میں بھی نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں کے کیریئر میں رکاوٹیں آئی ہیں۔ مگر یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ ہمارا سیاسی نظام اور سماج اتنی ہمت نہیں کرپایا کہ وہ ہمارے نوجوانوں خاص طور پر لڑکیوں کو ان ایجی ٹیشنوں میں شامل ہونے سے بچایا سکے۔ یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ہمارے نوجوانوں کے مفاد کو یقینی بنایا جاسکے۔ تاکہ وہ ناامید ہوکر تشدد کی طرف نہ جاسکے‘۔ انہوں نے کہا ’میں پہلے بھی اس بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ محاذ آرائی سے ہماری مشکلات کا حل نہیں نکل سکتا ہے۔ بلکہ اس سے ہماری ترقیاتی نشانوں کو حاصل کرنے میں اور مشکلات پیش آرہی ہیں۔ میں پھر سے ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں اور سبھی سماجی، مذہبی اور تہذیبی اور دیگر تنظیموں کے رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس بات کو سونچیں کہ روز روز کی ایجی ٹیشنوں اور ہڑتال کی وجہ سے تمام سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کے کام کاج پر خراب اثر پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاحت اور تجارت کا بھی بہت نقصان ہوتا ہے۔ ہماری ریاست اور ہمارے لوگوں کو ان مشکلات سے باہر نکالنے کے لئے یہ بہت ہی ضروری ہے کہ سبھی اسٹیک ہولڈرس چاہیے ان کو کوئی بھی سیاسی یا مذہبی نظریہ ہو، ان کو یہ بات ماننی ہوگی کہ کسی بھی مسئلے کا حل صرف بات چیت سے ممکن ہے‘۔ گورنر ووہرا نے ہتھیار ڈالنے والے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’یہ ایک اچھی بات ہے کہ حال ہی میں بھٹکے ہوئے کچھ نوجوان ملی ٹنسی کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ ایسے دوسرے نوجوان بھی جلد از جلد تشدد کا راستہ چھوڑ کر گھروں کو واپس لوٹ آئیں گے‘۔ گورنر ووہرا نے اپنی تقریر کے دوران پڑوسی ملک پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا ’پچھلے 30 برسوں سے پاکستان کی طرف سے لگاتار جاری پراکسی وار ﴿درپردہ جنگ﴾ اور جموں وکشمیر میں جاری تشدد اور افراتفری کو ہوا دینے کی وجہ سے ہماری ریاست کی ترقی میں مشکلیں آئی ہیں۔ سال 2017 کے دوران پاکستان نے کشمیر میں زیادہ سے زیادہ جنگجوؤں کو بھیجنے کی کوششیں کیں۔ ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ہمارے بہادر سیکورٹی فورس اہلکار انسداد عسکریتی پسندی کی کاروائیوں میں مصروف رہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں جنگجو مارے گئے۔ عام لوگوں اور سیکورٹی فورسز کا بھی نقصان ہوا‘۔ انہوں نے کہا ’پاکستان نے گذشتہ برس بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول پر بار بار فائرنگ کی جس کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے ہمارے لوگوں کا جانی اور مالی نقصان ہوا۔ اس گولہ باری کی وجہ سے بارڈر پر رہنے والے لوگوں کو اپنے گھر بھی چھوڑ کر جانا پڑا۔ دہشت گردوں نے شری امرناتھ یاتریوں پر بھی حملہ کیا جس کی وجہ سے کچھ یاتریوں کی جان بھی گئی۔ لیکن وہ یاترا میں خلل ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوئے‘۔ گورنر ووہرا نے کہا کہ سرحدوں پر پائیدار امن سے ہی دونوں ملکوں کے درمیان بہتر اور اچھے تعلقات قائم ہوں گے۔ انہوں نے کہا ’ہمارے ملک کے وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا کرنے کے لئے کئی قدم اٹھائے۔ مگر ان کا ابھی تک کوئی مناسب نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ مجھے پوری امید ہے کہ پاکستان کو جلد ہی اس بات کا احساس ہو گا کہ اسی جموں وکشمیر میں دہشت گردی اور تشدد جاری رکھنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا ہے ۔ اور سرحدوں پر پائیدار امن اور معمول کے حالات سے ہی دونوں ملک کے بیچ اچھے تعلقات قائم ہوسکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’پاکستان کی طرف سے جاری دہشت گردی کو ناکامیاب کرنے کے لئے ہماری سیکورٹی فورسز بڑے مشکل حالات کے باوجود بہت بہادری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس موقع پر ان سیکورٹی فورس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ملک کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کی ہیں‘۔ گورنر نے امید ظاہر کی کہ مرکز کے ’نمائندہ برائے کشمیر‘ دنیشور شرما کی کوششوں کے نتیجے میں ریاست میں امن کی بحالی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا ’جموں وکشمیر میں ہر کسی کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے مرکز نے حال ہی میں اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے سے ریاست میں امن اور شانتی کی بحالی میں مدد ملے گی‘۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق اعلان پر کہا ’لمبے عرصہ سے جاری نامساعد حالات کی وجہ سے ہماری بنیادی سطح کے جمہوری ڈھانچہ پر بھی برا اثر پڑا ہے۔ 2016 ئ کے شروع میں ریاست میں پنچایت اور اربن لوکل باڈیز کے انتخابات کرانے کے لئے کچھ قدم اٹھائے گئے تھے۔ مگر کئی وجوہات کی وجہ سے ابھی تک یہ انتخابات نہیں کرائے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں یہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ رورل اور اربن لوکل باڈیز کے قائم ہوجانے کی وجہ سے حکومت ان اداروں کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنائے گی اور مالی امداد بھی دی جائے گی‘۔ ریاست میں یوم جمہوریہ کی دوسری بڑی تقریب کا اہتمام شیر کشمیر کرکٹ ا سٹیڈیم سرینگر میں کیا گیا۔یہاں مال اور پارلیمانی امور کے ریاستی وزیر عبدالرحمان ویری نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے ترنگا لہرایا، پریڈ کا معائینہ کیا اور مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔تقریب میں کئی ممبران قانون سازیہ کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران بھی موجود تھے جن میں صوبائی انتظامیہ کے سربراہ بصیر احمد خان،پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل منیر احمد خان اورضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر عابد رشید شاہ بھی شامل تھے۔پریڈ میں پولیس،سی آر پی ایف، آرمڈ پولیس، فائر اینڈ ایمر جنسی سروس ، ہوم گارڈس اور این سی سی کیڈٹس کے علاوہ مختلف اسکولوں کے طلبا نے بھی حصہ لیا۔تقریب کے آخر پر طلبہ وطالبات اور فنکاروںنے رنگا رنگ تمدنی پروگرام پیش کرکے حاضرین کو محظوظ کیا۔اس سے قبل اپنے خطاب میں عبدالرحمان ویری نے پی ڈی پی بی جے پی مخلوط سرکار کی اب تک کی کارکردگی کا مجموعی خاکہ پیش کیااور کہا کہ حکومت نے ریاست کی تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبودکا جو ایجنڈا مرتب کیا ہے، اسے سرعت کے ساتھ عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں