محکمہ تعلیم میں نئی روح پھونکنے کی ضرورت

محکمہ تعلیم کو ایک نئی جہت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تعلیم کے وزیر نے کہا کہ تمام سطحوںپر مجموعی ترقی حاصل کرنے کیلئے تعلیم کو ایک اہم اورکلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اسمبلی میں مطالبات زر پرہوئی بحث کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف چلینجوں اور مشکلات کے باوجود بھی موجودہ حکومت تعلیمی نظام کو دوبارہ پٹری پر لانے میںکامیاب ہوئی ہے اور کشمیر کے حالیہ بورڈ نتایج سے ایک امید کی کرن جاگ اٹھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے کام کاج میں معقولیت لانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کا مطلب بچوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا ہے کیونکہ اس شعبے سے قوم کے معمار تیار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی وزارت سکولوں اور کالجوں میں مختلف وجوہات سے ضایع ہوئے وقت کی بھر پائی کیلئے ایک علیحدہ تعلیمی کلینڈر جاری کرنے پر غور کررہی ہے تاکہ چھٹیوں کی تعداد میں کمی لائی جاسکے۔ اور اساتذہ وقت پر اپنا سیلبس پورا کرسکیں۔ انہوں نے تعلیمی سیکٹر کو تقویت بخشنے کیلئے عوام کا تعاون طلب کیا اور کہا کہ اساتذہ برادری کو طلاب کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر تدریسی ڈیوٹی سے مستشنیٰ رکھا جانا چاہئے۔ جہاں تک وزیر تعلیم کا تعلق ہے تو انہوں نے محکمے میں نئی روح پھونک دی ہے لیکن محکمہ تعلیم کو مزید مستحکم بنانے اور سکولوں کی حالت تبدیل کرنے کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے۔ حال ہی میں جو بورڈ امتحانی نتایج کا اعلان کیاگیا اس میں پرائیویٹ سکولوں کے مقابلے میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی مایو س کن رہی۔ اس کی کونسی کی وجوہات ہوسکتی ہیں کیا وزیر تعلیم نے اس پر غور کیا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل صحیح ہے کہ جب تک سکولوں میں احتسابی عمل کو سختی سے لاگو نہیں کیاجائے گا تو اس وقت تک سکولوں میں بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ہے اور دوسری بات یہ ہے اور جس کا تذکرہ وزیر تعلیم نے خود اپنی تقریر میں کیا ہے کہ جب تک سرکاری اساتذہ کو غیر تدریسی کاموں میں الجھایا جائے گا سرکاری سکولوں کے نتایج میں کسی بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ افسر لوگ منظور نظر اساتذہ کو دفاتر میں رکھتے ہیں جہاں وہ ہر طرح سے آزاد رہتے ہیں جب تک ان کی اٹیچمنٹ ختم نہیں کی جائے گی تب تک کچھ نہیں ہوسکتا ہے ہر آفس میں اساتذہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اسلئے ان کو فوری طور سکولوں میں واپس بھیجا جانا چاہئے۔ ادھر اساتذہ کیلئے سخت ترین احتسابی عمل کی ضرورت ہے تب کہیں جاکر سکولوں میں درس و تدریس کا عمل بہتر بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سکولوں کی حالت بھی سدھارنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت بیشتر مڈل اور پرایمری سکول کرایہ کی عمارتوں میں ہیں لیکن ان کی حالت خستہ ہوچکی ہے ان میں بہتری لازمی ہے اسلئے ریاستی سرکار کو فوری طور از خود سکولوں کی تعمیر شروع کرنی چاہئے جس سے سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور اس طرح پرائیویٹ سکولوں کو من مانیاں کرنے کا بھی موقعہ نہیں مل سکتاہے۔ جب تک نئی اور دیدہ زیب سکول عمارتیں تعمیر نہیں کی جاینگی سرکاری سکولوں میں طلبہ کی تعداد کسی بھی صورت میں بڑھ نہیں سکتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں