محبوبہ مفتی کی طرفسے امن اور ہندپاک دوستی کی اپیل

مرحوم مفتی محمد سعید کی دوسری برسی پر بیج بہاڑہ میں جلسے سے خطاب کہا کشمیر میں تشدد سے صرف قبرستان آباد ہوئے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیاجائے گا مفتی محمد سعید کے مقبرے پر فاتحہ خوانی اور گلباری
بیج بہاڑہ/نیاز حسین/ریاست کے سابق وزیر اعلی مفتی محمد سعید کی دوسری برسی پر کل مرحوم کے مقبرے پر ہزاروں لوگوں نے اپنے رہنما کو شاندار خراج عقیدت ادا کیا ۔مقبرے پر فاتحہ خوانی کی گئی اور گلباری کی گئی ۔ان لوگوں میں پیر و جوان سب شامل تھے جو کڑاکے کی سردی میں دور دراز علاقوں سے آے تھے ۔وزیر اعلی کے علاوہ متعدد وزرا ،ممبران قانون سازیہ ،کے علاوہ پی ڈی پی کے متعدد رہنماوں نے مقبرے پر فاتحہ خوانی کی اور پھول چڑھاے ۔ادھرہند وستان اور پاکستان کے درمیان مضبوط اور دوستانہ تعلقات کی وکالت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے آج دونوں ممالک کے رہنمائوں سے اپیل کی کہ وہ آپسی تعلقات بہتر بنائیں جن کی بدولت دونوں پڑوسی ممالک تشدد اور تلخیوں کے خاتمے کی جانب قدم بڑھائیں۔مفتی محمد سعید کی دوسری برسی کے سلسلے میں آج ان کے مزار پر ایک بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا علیٰ نے سرحدوں پر شلنگ کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے تلف ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سرحد پر رہنے والے لوگوں میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کب تک انسانی خون بہتا رہے گا ؟انہوںنے کہا کہ دونوں ممالک کے حکمرانوں کو نفرت کے ماحول کو بدل کر امن کا ماحول پیدا کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کا ریاست کے حالات پر مثبت اثرپڑ سکتا ہے جہاں پچھلے تین دہائیوں کے دوران بہت زیادہ خون خرابہ دیکھنے میں آیا ہے۔انہوںنے کہا کہ تشدد کی بدولت لوگوں نے صرف تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھائیں اور اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ریاست کو اس خون خرابے سے باہر نکالا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں مخلوط سرکار کے قیام کا یہی مقصد تھا اور حکومت سنجیدگی سے اسی مقصد کی تکمیل کے لئے اپنی تمام تر کوششیں کرتی رہے گی۔مرحوم مفتی محمد سعید کو زبرد ست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرحوم ایک ویژن اور مشن کے علمبردار تھے جن کی زندگی کا بنیاد ی مقصد یہی تھا کہ وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو مصیبتوں اور مشکلات سے باہر نکالیںاور انہیں ایک خوشحال اور پُر امن زندگی فراہم کریں۔دونوں ممالک کے درمیان زیادہ راہیں کھولنے اور بہتر تعلقات قائم کرنے کا مرحوم کا نظریۂ ریاست کے لوگوں کے لئے خوش آئند ثابت ہوا۔انہوںنے اس/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ غیر سنجیدگی کے ماحول کے مدنظر سال 2005ئ میں مرحوم نے اپنی ذمہ داریوں سے دست برداری حاصل کی۔انہوںنے کہاکہ مرحوم لیڈر کے ویژن اور فلاسفی برصغیر کے حالات کے مد نظر ہر گزرتے ہوئے دِن کے ساتھ اور زیادہ موثر ثابت ہو رہا ہے۔محبوبہ مفتی نے اس موقعہ پر ان کی حکومت کی طرف سے لوگوں کی بہبودی کے لئے اُٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل پیش کی۔ انہوںنے کہا کہ انہوں نے نوجوانوں کے خلاف مختلف کیسوں کو واپس لینے اور 60,000کیجول اور ڈیلی ویجروں کی ملازمت کو باقاعدہ بنانے کا وعدہ پورا کیا ۔انہوںنے کہاکہ انہیں مرکزی حکومت کی طرف سے معقول مالی امداد فراہم ہوا ہے جس سے ریاست میں ترقیاتی منظر نامے میں بہت تبدیلی لائی جاسکتی ہے اور روزگار کے مواقع کو معرض وجودمیں لانے میں بھی مدد ملے گی ۔ لیکن انہوںنے کہا کہ اس مقصد کے لئے ایک پُر امن ماحول بہت ضروری ہے کیونکہ 2016ئ کے دوران نامساعد حالات کے مد نظر بہت سارے کام مکمل نہیں کئے جاسکیں بلکہ رقومات بھی لیپس ہوئے۔اس سے قبل وزیرا علیٰ نے مفتی محمد سعید کے مزار پر حاضری دی اور مرحوم کے حق میں فاتحہ خوانی انجام دی۔وزیراعلیٰ نے ان کے مزار پر پھول نچھاور کئے۔وزرائ ، ممبر ان پارلیمنٹ ، ارکان قانون سازیہ ، سینئر افسران اور لوگوں کی بڑی تعداد داراشکوہ پارک میں محبوب لیڈر کو فاتحہ خوانی کے لئے اکٹھے ہوئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں