بنکاک ملاقات ایک مثبت قدم

 اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ دسمبر کی 26تاریخ کو بھارت اور پاکستان کے قومی سلامتی مشیروں کے درمیان تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں خفیہ ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول نے اپنے پاکستانی ہم منصب ناصر خان جنجوعہ کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی موجودہ نوعیت کے حوالے سے بات چیت کی اور یہ مذاکراتی عمل دو گھنٹے تک جاری رہا جس میں دوطرفہ تعلقات کا احاطہ اور سرکاری سطح پر بحالی مذاکرات کے امکانات کا جائیزہ لیاگیا۔ اس طویل ملاقات کے دوران دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کے کچھ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات کلبھوشن کی والدہ اور بیوی کے ساتھ ملاقات کے دوسرے دن ہوئی جس کا اس ملاقات کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا جیسا کہ اخبارات میں آیا ہے کہ یہ ملاقات پہلے سے ہی طے تھی حالانکہ کلبھوشن کی گھروالوں کیساتھ ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں پھر سے کشیدگی پیدا ہوگئی کیونکہ بھارت نے الزام لگایا کہ اس ملاقات کے دوران کلبھوشن کے گھروالوں کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کیاگیا۔ جس کے بعد یہ خدشات پیدا ہوگئے تھے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوریاں اور زیادہ بڑھ جائینگی لیکن اس کے برعکس بنکاک کی ملاقات سے یہ امید پیدا ہوگئی کہ واقعی بھارت اور پاکستان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی سوچ مثبت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اور زیادہ قریب لانے سے تمام متنازعہ مسایل کا حل تلاش کیاجاسکتا ہے۔ جموں میں گذشتہ ایک ہفتے سے سرحدوں پر جو زبردست گولہ باری ہورہی ہے اس میں فریقین کا جانی نقصان بھی ہوا ہے ایک ہی حملے میں چار بھارتی سپاہی مارے گئے جن کے بارے میں میڈیا میں یہ رپورٹ شایع ہوئی تھی کہ ان کی لاشیں مسخ شدہ حالت میں برآمد ہوئی ہیں لیکن وزارت دفاع نے ان اطلاعات کوغلط قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی بھارتی فوجی کی لاش مسخ شدہ حالت میں نہیں ملی۔ جموں کے نوشہرہ، راجوری اور پونچھ سیکٹروں میں ہوئی جھڑپوں کے دوران پاکستا ن کی فوج کے بھی کئی سپاہی مارے گئے جس سے سرحد پر بھی اور زیادہ تنائو اور کشید گی بڑھ گئی لیکن اس کے باوجود بنکاک میں دونوں ملکوں کی قومی سلامتی مشیروں کے درمیان ملاقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اب بھی اس بات کی کوششیں ہورہی ہیں کہ کب بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح امن و سکوں کے ساتھ رہ سکیں۔ کیونکہ اگر ان دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ ہوگی تو اس سے پورا جنوبی ایشیائی خطہ اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے اور بڑے پیمانے پرتباہی مچ سکتی ہے لیکن اگر بات چیت کا راستہ کھل جائے گا تو پرامن طور پر افہام و تفہیم کے ذریعے مسایل کو حل کیاجاسکتا ہے۔ اسلئے اس عمل کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس خطے کے رہنے والے لوگوں کو جنگ و جدل کی تباہ کاریوں سے دور رکھنے میں مدد مل سکے۔ جنگ کے بعد بھی تو بات چیت ہی سے مسلئے سلجھائے جاسکتے ہیں اسلئے کیوں نہ ابھی سے مذاکرتی عمل کی شروعات کی جایںگی یہ امن پسند لوگوں کی دلی خواہش ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں