بجٹ اجلاس کا ہنگامہ خیز آغاز اپوزیشن کا واک آوٹ ،گورنر کے خطبے کے دوران بار بار خلل ڈالاگیا ، مخلوط حکومت کے خلاف نعرے بازی انجینئر رشید ایوان میں مسلسل احتجاج کرتے رہے اور فورسز کی طرف سے حالیہ ہلاکتوں پر احتجاج اور راے شماری کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے

جموں/کشمیر نیوز سروس/ بجٹ اجلاس کے پہلے ہی روز ہنگامہ آرائی اورشورشرابے کے بیچ اپوزیشن ارکان قانون سازیہ نے اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے گورنرکے خطبہ میں رخنہ ڈالاجبکہ این سی ،کانگریس اوردیگراپوزیشن ممبران نے’جمہوریت وانسانیت کے قاتلو،ہوش میں آئوہوش میں آئو‘جیسے نعرے بلندکرتے ہوئے ایوان سے واک آوٹ کیا۔اس دوران ممبراسمبلی لنگیٹ انجینئررشیدنے ایوان میں اکیلے مورچہ سنبھالتے ہوئے کشمیریوں کیلئے حق خودارادیت کامطالبہ کیا۔اُدھرمشترکہ اجلاس کے دوران حالیہ مہینوں میں فوت ہوئے سابق ممبران قانون سازیہ کوخراج پیش کیاگیا، سرمائی راجدھانی جموں میں سیول سیکرٹریٹ کے متصل اسمبلی کمپلیکس میں منگل کی صبح ریاستی اسمبلی کابجٹ اجلاس شروع ہونے سے قبل ہی کافی گہماگہمی نظرآئی ۔جہاں ممبران قانون سازیہ اورالیکٹرانک وپرنٹ میڈیاسے وابستہ افرادکی آمدآمدجاری رہی وہیں ریاستی پولیس اوردیگرسیکورٹی ایجنسیوں کے دستے بھی سریع الحرکت نظرآئی ۔اضافی سیکورٹی بندوبست کے بیچ ریاستی گورنراین این ووہرا،وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ،اسپیکراسمبلی کویندرگپتا،چیئرمین کونسل حاجی عنایت علی اورحزب اقتداروھزب اختلاف سے وابستہ سبھی ارکان قانون سازیہ اسمبلی کمپلیکس جموں پہنچ گئے ۔بجٹ اجلاس کے سلسلے میں قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں کامشترکہ اجلاس شروع ہونے کے کچھ وقت بعدجب ریاستی گورنراین این ووہرانے اپناخطاب شروع کرتے تواسے پہلے ہی جملہ اپوزیشن ممبران اپنی نشستوں پرکھڑے ہوگئے اورانہوں نے سرکارمخالف نعرے بازی شروع کی ۔نیشنل کانفرنس ،ریاستی کانگریس ،سی پی آئی ایم ،پی ڈی ایف اورعوامی اتھادپارٹی سے وابستہ اپوزیشن ارکان قانون سازیہ نے ’جمہوریت وانسانیت کے قاتلو،ہوش میں آئوہوش میں آئو‘اور’چوٹیاں کاٹنے والی سرکارہائے ہائے ‘جیسے نعرے بلندکئے ۔اپوزیشن ممبران نے کشمیرمیں حقوق انسانی پامالیوں ،شہری ہلاکتوں ،سوشل میڈیاپرقدغن ،بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اوردیگرکئی معاملات کولیکرایوان کے اندرشورشرابہ کرتے ہوئے گورنرکے خطاب/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 میں رخنہ ڈالا۔اس دوران ایوان میں شورشرابے کے باعث کچھ بھی نہیں سناجاسکتاتھا۔ اس دوران جونہی گورنرنے اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے اپناخطاب شروع کیاتواسمبلی کمپلیکس کے مرکزی ہال میں شورشرابے اورنعرے بازی کی گونج سنائی دی،اورگورنرکواپناخطاب شروع کرنے کیلئے ٹھہرناپڑا۔اس دوران اسپیکر کویندر گپتا جومشترکہ اجلاس کی سربراہی کررہے تھے ،نے اپوزیشن ممبران کوخاموش رہنے کی اپیل کرتے ہوئے گورنر کے خطاب کوسننے کیلئے کہالیکن سبھی اپوزیشن ممبران نے مودی سرکار،مفتی سرکارہائے ہائے کے نعرے بلندکرتے ہوئے گورنرکے خطاب کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجی واک آئوٹ کیا۔اس دوران ریاستی گورنراین این ووہرانے بھی اپوزیشن ممبران کواپنی اپنی نشستوں پربیٹھ کراُنکی تقریرسننے کی اپیل کی لیکن اپوزیشن ممبران نعرے بازی اورشورشرابہ کرتے ہوئے ایوان سے باہرچلے گئے ۔اس دوران این سی ارکان قانون سازیہ نے اپنی بازوئوں پرسیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں ۔ ممبراسمبلی لنگیٹ انجینئررشیدنے اس موقعہ پرواک آئوٹ نہیں کیابلکہ وہ گورنرکے خطاب کے دوران شورشرابہ کرتے رہے ۔نیشنل کانفرنس،کانگریس اور دیگراپوزیشن ممبران کے گورنر کی تقریر کا بائیکاٹ کرکے چلے جانے کے بعد انجینئر رشید نے اکیلے ہی ایوان میں مورچہ سنبھالے رکھا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے حق خود ارادیت کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں جنہیں کسی بھی صورت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو شہدائ کے خون کا سودا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔انجینئر رشید نے گورنر کی توجہ، انکے آئینی اختیار،نئی دلی کی جانب سے ریاستی آئین کے ساتھ قت وقت پر چھیڑ چھاڑ کئے جانے،این آئی اے کی جانب سے حریت و کاروباری قائدین کے گھروں پر چھاپے مارے جانے،کئی مزاحمتی لیڈروں مسلسل نظربندی،مختلف واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائے جانے کے جھوٹے وعدے،نئی دلی کی جانب سے ریاست کے اختیارات کو خاطر میں نہ لائے جانے کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی۔عوامی اتحادپارٹی کی جانب سے موصولہ بیان کے مطابق ممبراسمبلی لنگیٹ نے موجودہ سرکار کے فرقہ وارانہ ایجنڈا،بھرتی عمل میں ریاست کے اکثریتی فرقہ کے ساتھ امتیاز،پولس میں بلاجواز بارڈر ریکریوٹمنٹ،حال ہی میسرہ،ربی جان اور سومو ڈرائیور آصف کے سرکاری فورسز کے ہاتھوں قتل،16سالہ فردین کے فدائی جنگجو بننے،وزرائ و افسروں کی کنبہ و اقربائ پروری،سرکاری فورسز کی دہشت گردی و جبروزیادتی کے علاوہ ،سیاسی و ترقیاتی محاذوں پر ریاستی و مرکزی سرکاروں کی دیگر ناکامیوں کی طرف دلائی۔انجینئر رشید نیکہاکہ نئی دلی لوگوں کو سچ کہنے سے روکنے کیلئے ہر طرح کا حربہ استعمال کرتی آرہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیئے کہ جموں کشمیر میں جاری مزاحمتی تحریک نہ پاکستانی ایجنسیوں کی تخلیق ہے اور نہ کسی خاص فرد یا تنظیم کی وجہ سے ہے بلکہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کے لوگ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اطلاق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انجینئر رشید نے کہا کہ یہ بات انتہائی شرمناک ہے کہ جنگجوؤں کو مارنے کیلئے مراعات،ترقیاں اور سہولیات کا لالچ دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست میں سبھی مصائب کی جڑ ہے اور اس نے ہمیشہ ہی دلی کی اعانت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی نے فلسطین کے حق میں ووٹ کیا ہے مگر اسے جموں کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے اطلاق پر اتفاق نہیں ہے تو پھر اسے کیوں نہ دلی کا دوغلا پن قرار دیاجائے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ نئی دلی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور یہاں جاری ہلاکتوں کو بند کرانے سے کتراتے رہنے کی وجہ سے کشمیریوں کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام ہوئی ہے لہٰذا گورنر کو کشمیریوں کو امن کا درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز اور اختیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو سمجھ لینا چاہیے کہ دفعہ35-Aیا370کو تحفظ دینا کشمیریوں پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ عارضی الحاق کے وقت ریاست کو دی گئی آئینی ضمانتیں ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں