کشمیر میں سرگرم تمام جنگجوئوں کو عام معافی دینے کا منصوبہ زیرغور نہیں :مرکز کا اعلان
تاہم تشدد ترک کرنیوالے گروپوں کیساتھ مذاکرات کیلئے مرکز تیار ،پارلیمنٹ میں انکشاف

نئی دہلی /مرکزی حکومت نے اعلان کیا کہ جموںوکشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میںمیں سرگرم تمام طرح کے جنگجوئوں کو عام معافی دینے کاکوئی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں تاہم تشدد کا راستہ ترک کرنے والوںکیلئے مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے۔پارلیمنٹ میں ایک تحریری سوال کے جواب میں امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت کرن رینجو نے کہا کہ کشمیر میں سرگرم جنگجووں کوعام معافی دینے کا کوئی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں ، تحریری سوال میں حکومت سے پوچھا گیا کہ آیا جموںوکشمیر میں سرگرم جنگجووں اورکیلئے حکومت کے پاس کوئی ایسا منصوبہ ہے جس میں انہیں عام معافی دی /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
جائے یا پھر ان کیلئے کوئی پیکیج سرکار کے زیر غور ہے ۔تو وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی منصوبہ حکومت کے زیرغور نہیں جس میں ہر طرح کے جنگجووں کو عام معافی دی جائے تاہم انہوںنے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ جموںوکشمیر کے اندر ریاستی حکومت نے ایک فیصلہ لیا ہے جس میں مقامی جنگجووں جو کسی وجہ سے غلط راستے پر پڑ گئے ہیں اورنوجوان ہیں تو ان کو واپس لانے کیلئے اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر عام معافی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن یہ طریقہ سبھی جگہوںپر عملانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے بلکہ ایک سلیکٹو منصوبہ ہے جو کشمیر میں ہی عملایا جا رہا ہے تاکہ ہ امن وامان کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ تحریری سوال کے جواب میںانہوںنے مزید کہاکہ ہر طرح کے جنگجووں کو عام معافی دینے کا سوال ہی نہیں بلکہ دہشت گردوں کیلئے کوئی معافی نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ سنگین جرائم میںملوث نہ ہونے والے جنگجووں کو الگ نظر سے دیکھا جاسکتا ہے کیونکہ کچھ ایک حالات کو دیکھتے ہوئے اگر کسی نوجوان کو ورغلاکر بندوق کے راستے پر ڈالا جائے اور اگر وہ اس راستے سے واپسی کی خواہش رکھتا ہوتو اس کو ایک موقعہ دیا جانا چاہئے اور یہی کام کشمیر میں کیا جارہا ہے جس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پھر بھی ہول سیل میں عام معافی کا کوئی منصوبہ سرکار کے زیر غور نہیں ہے ۔ انہوںنے لوک سبھا کو مطلع کیا ہے کہ سبھی جنگجووں کیلئے کوئی باز آبادکاری منصوبہ بھی نہیں ہے تاہم حکومت نے کئی پہلووںپر مبنی ایک پالیسی اپنائی جو کہ جنگجوئیت سے نمٹ رہی ہے جس میں کثیر جہتی پالیسی شامل ہے ۔انہوںنے کہا کہ سرنڈر کرنے والے جنگجووں کیلئے باز آبادکاری مہم بھی شروع کی گئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ حالات کو دیکھ کر ہی فیصلے لئے جاتے ہیں اور ایسے میںجموںوکشمیر اور دیگر مقامات پر شورش زدہ ریاستوں میں بھی مرکزی حکومت زمینی حقائق کو دیکھ کر ہی فیصلے لیتی ہے جس میں ملکی مفاد جڑا ہوتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور ایسی ہی پالیسی اپنائی جارہی ہے جس میںامن دشمنوںکیخلاف سخت کاروائی عمل میںلائی جارہی ہے جبکہ تشدد کو خیر باد کہنے والوں کا استقبال کیا جاتاہے اور ان کی با زآبادکاری کویقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ۔ایسی پالیسی ترتیب دی گئی ہے جس میں تشدد کا راستہ ترک کرنے والے گروپوں کیساتھ آئین ہند کے اندر ان کی جائز مانگوں اور مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کی جائیگی اور ان کو یقین دلایا جارہا ہے کہ ان کے جائز مطالبات آئین ہند کے اندر اندر ہی حل کرائے جائیں گے ۔تاہم تشدد پر آمادہ عناصر کی سرکوبی کی بھی ہدایت دی گئی ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہوگئے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں