سالِ گزشتہ کی تلخ یادوں کے ساتھ 2018کا سورج طلوع ہوگیا

سال گزشتہ کی تلخ و شیرین یادوں کے ساتھ آج نئے سال کا سورج اس اُمید کے ساتھ طلوع ہو گیا کہ یہ سال کشمیریوں کیلئے بالخصوص اور اقوام عالم کیلئے بالعموم پُر امن ہو۔ سال2017 مقامی و بیرونی سطح پر اپنی ہنگامہ خیزی کے تعلق سے زندگی کے ہر شعبہ پر متاثر رہا۔ریاستی سطح پر اگرچہ پچھلے سالوں کی طرح سیاسی تشدد میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئیں اور قیام امن کی بحالی کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے ،وہیں ملکی سطح پر حکومت کے متنازعہ فیصلوں نے ہنگامہ خیز صورت حال پیدا کی۔ ریاست جموں و کشمیر کیلئے مرکزی مزاکرات کار کی نامزدگی، وزیر داخلہ اورکانگریس پالیسی ساز گروپ کی آوا جاہی،35اے پر سیاسی بحث، طلبہ کی سڑکوں پر موجودگی، جی ایس ٹی کا اطلاق، مزاحمتی لیڈروں کی خانہ و تھانہ نظر بندی، این آئی کے چھاپے، ہڑتال اور پر تشدد واقعات جہاں گزشتہ سال کے اہم خاص واقعات رہے وہیں سال کے اختتام پرکابینہ میں توسیع،پنچایتی انتخابات کا اعلان،روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی مستقلی اور پہلی بار سنگبازی کے مرتکب ہوئے نوجوانوں کی عام معافی کے اقدامات باعث موضوع بنے۔ تشددکے واقعات، جنگجویانہ کاروایئوں اور فورسز کی فائرنگ سے384ہلاکتیں ہوئیںجن میں73عام شہری 207جنگجو اور93۱پولیس و فورسز اہلکار شامل ہیں۔ 30شہری عسکریت پسندوں اور فوج و فورسز کے درمیان خونین جھڑپوں کے دوران فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے تعلق سے آئین ہند میں دفعہ 35اے کو ختم کرنے کے مرکزی حکومت پر براجمان بی جے پی کے مطالبے اور حکومتی کوششوں کے نتیجے میں ریاست اور بیرون ریاست میں زبردست بحث چھڑ گئی، اس بحث کے نتیجے میں ایک ہنگامہ خیز نوعیت کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ ریاست کی مقامی اِلحاق نواز سیاسی جماعتوں نے اس کی کھل کر مخالفت کی جبکہ علیحدگی پسند جماعتوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسی سال مرکزی حکومت کے ایک اہم ادارے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی﴿این آئی اے﴾ نے کشمیر میں کئی علیحدگی پسند لیڈروں اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کرلیا جن پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستان اور دیگر ممالک سے غیر قانونی طور پر رقومات حاصل کئے ہیں جن کی تحقیقات کی جائے گی۔ چنانچہ شبیر احمد شاہ سمیت کئی افراد ابھی بھی زیر حراست ہیں۔گزشتہ سال کے وسط میں مرکزی حکومت کے طرف سے اشیائ کی خرید و فروخت کے تعلق سے جی ایس ٹی کے نام سے ایک نیا قانون نافذ کیا جس کی اپوزیشن پارٹیوں بالخصوص کانگریس نے زبردست مخالفت کی۔ اس کے علاوہ ملک و ریاستوں کی تجارتی انجمنوں اور کاروباری حلقوں نے اسے ظلم و جبر سے تعبیر کیا۔ نتیجے کے طور پر کئی ریاستوں میں اس نئے قانون کے خلاف احتجاج ہوئے۔ قانون تو نافذ ہوگیالیکن اس کے مضمرات اور نتائج کی پیچیدگیوں میں عام آدمی ابھی بھی پسا جارہا ہے۔سرینگر اور اننت ناگ پارلیمانی نشستوں کی خالی نشستوں کو پُر کرنے کیلئے الیکشن کمیشن نے اپریل کے مہینے میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ سرینگر میں انتخابات تو ہوئے جن میں نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ کامیاب تو ہوگئے لیکن انتخابات کی مخالفت میں ہوئے تشدد کے دوران کئی شہری ہلاکتوں نے سرکار کو اننت ناگ کی نشست کیلئے انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا۔جہاں پی ڈی پی کے امیدوار تصدق حسین امیدوار کی حیثیت سے کھڑے تھے، جو وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے بھائی ہیں۔ ابھی تک اس حلقہ انتخاب میں انتخابات نہیں ہوئے ہیں لیکن تصدق حسین کو ریاستی کابینہ میں پچھلے دروازے سے داخل کرکے سیاحت کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا۔ سرینگر ضمنی انتخابات کے دوران بیروہ،پکھرپورہ،چاڈورہ،رٹھسونہ،کائو سہ اور گاندربل8نوجوان فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے۔اس روزبڈگام،سرینگر اور گاندربل میںدوسوکے قریب مقامات پر سنگبازی،ٹیر گیس وپیلٹ شلنگ اور گولیوں کی گنگناہٹ ہر سو تھی جس میں200افراد زخمی ہوئے۔ اس دوران فوج کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن آل آوٹ کے دوران خونین معرکہ آرائیوں میں حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر محمود غزنوی اور لشکر طیبہ کے چیف کمانڈراں ابو دوجانہ و ابو اسماعیل کے علاوہ جیش محمد کے چیف کمانڈر خالد بھائی،حزب کمانڈرسبزار بٹ جاں بحق ہوگئے۔ گزشتہ سال کے ماہ اول جنوری میںفورسز اور جنگجوں کے درمیان 6خونین معرکہ آرائیوں میں9عسکریت پسند جان بحق ہوئے جبکہ فروری میں5جھڑپوں کے دوران10جنگجووں کے علاوہ9فوجی اہلکار اور2عام شہری بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،جبکہ17مزید زخمی ہوئے۔ اس دوران فوج کا ایک میجر ہلاک جبکہ ایک میجر اور سی آر پی ایف کے ایک کمانڈنٹ سمیت ایس پی آپریشنز بھی تصادم آرائی میں زخمی ہوئے۔مارچ میں فوج،فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان5معرکہ آرائیوں میں11عسکریت پسند جان بحق جبکہ1فورسز اہلکار ہلاک ہوا۔اس دوران3میجر اور ایک لیفٹنٹ کرنل سمیت12اہلکار زخمی ہوئے۔فورسز کی کاروائی کے دوران6شہری بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اپریل کا ماہ بھی گرما گرمی کا رہا جس کے دوران8خونین معرکہ آرائیوں میں4عسکریت پسند جان بحق ہوئے جبکہ5فورسز و فوجی اہلکاروں کو بھی اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اپریل کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑا۔ سرینگر ضمنی انتخابات کیلئے ضمنی انتخابات کے دوران بیروہ،پکھرپورہ،چاڈورہ،رٹھسونہ،کائو سہ اور گاندربل8 نوجوان فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنے۔بڈگام،سرینگر اور گاندربل میںدوسوکے قریب مقامات پر سنگبازی،ٹیر گیس وپیلٹ شلنگ اور گولیوں کی گنگناہٹ ہر سو تھی جس میں200فراد زخمی ہوئے جن میں سے کئی ایک کی حالت نازک قرار دی جارہی ہے۔ اس دوران مشتعل ہجوم نے درجنوں پولنگ عملے اور فورسز کی گاڑیوں کو نشانہ بناکر نقصان پہنچایا جبکہ14کے قریب الیکٹرانک مشینوں کو نذر آتش کیا گیا۔اسی مہینے ایک سیاسی کارکن جان بحق ہواجن میں2 افراد کو نامعلوم بندوق برداروں نے ہلاک کیا۔مئی میں2جنگجو،2بنک گارڑ،5اہلکار اور5شہری لقمہ اجل بن گئے۔وادی میں جون میں بھی خون بہنے کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران14عساکر اور12سیکورٹی اہلکاروں سمیت7شہریوں کی جان گئی۔اس دوران28 فورسز اہلکار زخمی ہوئے۔جون میں ماہ مقدس کے دوران جنگجویانہ حملوں میں تیزی آئی جبکہ شب قدر کو ایک پولیس ڈی ایس پی کو جامع مسجد کے نزدیک زیر چوب مارا گیا۔ جولائی کے پہلے 3ہفتوں میں16عساکرجھڑپوں کے دوران جان بحق ہوئے جبکہ ایک اہلکار ہلاک اور4شہری لقمہ اجل بن گئے۔ اگست میں 19عساکر جان بحق ہوئے جبکہ9 اہلکار بھی ہلاک ہوا۔ اس دران4 شہری بھی اپنی جان سے ہاتھ دو بیٹھے۔ستمبر میں15جنگجوئوں کے علاوہ ایک اہلکار ہلاک جبکہ5 شہری بھی جان بحق ہوئے جبکہ18اہلکار زخمی ہوئے۔ذرائع کے مطابق اکتوبر میں مجموعی طور پر12عسکریت پسند جان بحق ہوئے،جبکہ7اہلکاروں نے بھی زندگی کی جنگ ہار دی،اور اس دوران4شہری بھی موت کی آغوش میں سو گئے،جبکہ9اہلکار زخمی ہوئے۔اسی طرح ماہ اکتوبر نومبر اور دسمبر میںبھی پر تشدد واقعات کا سلسلہ جار ی ہے۔ماہ اکتوبر میں17 جنگجو،13 عام شہری اور 9 فورسز اہلکار شامل ہیں۔ اسی طرح ماہ نومبر میں28 جنگجو، اور ایک عام شہر ی ماراگیا۔ اسی طر ح ماہ دسمبر میں9 جنگجو، 6 پولیس اہلکار، تین عام شہری اور 2 بنک گارڈ بھی مارے گئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں