نیا سال کیسا ہوگا؟

 سال 2017 ہم سے رخصت ہوا ہے اور اپنے پیچھے تلخ و شرین یادیں چھوڑ گیا ہے ۔ سال گذشتہ نہایت ہی تلخیوں، الجھنوں اور انتشار سے بھرا رہا اور اس سال بھی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔ سیاسی سطح پر بھی اس سال اتھل پتھل رہی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی تعلقات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی اور سرحدوں پر بھی ہر دوسرے تیسرے روز گولی باری کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں جن کی بنا پر دونوں ملکوں نے بار بار سفارتی سطح پر ایک دوسرے کیخلاف احتجاج کیا۔ حال ہی میں جب پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن جسے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے کے ساتھ اس کی بیوی اور والدہ کو ملاقات کرنے کی اجازت دی تو یہ عمل بھی دونوںملکوں کے درمیان ایک اور تنازعے کا باعث بن گیا۔ غرض سال گذشتہ کسی بھی طور بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت کے اعتبار سے کوئی قابل ذکر نہیں رہا بلکہ تعلقات کی نوعیت کشیدہ ہی رہی۔ جہاں تک کشمیر میں ہلاکتوں کا تعلق ہے تو سال 2017میں تشدد کے واقعات، عسکری کاروائیوں، ملی ٹنٹوں کی فائیرنگ اور فورسز کی فائیرنگ سے 384ہلاکتیں ہوئیں جن میں 8یاتری، 73عام شہری، 93پولیس یا فورسز اہلکار اور جنگجو ہلاک ہوگئے۔ اس سال مرکزی حکومت نے کشمیر پر رابط کار کی حیثیت سے سابق آئی پی ایس افسر جو آئی بی کے سربراہ کے عہدے سے ریٹائر ہوچکے تھے کی تقرری کا اعلان کیا۔ دینیشور شرما اب تک تین مرتبہ وادی کے دورے پر آئے۔ اگرچہ انہوں نے بہت سے سیاسی رہنمائوں اور دوسرے لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں لیکن مزاحمتی قیادت نے حسب توقع ان کے ساتھ ملنے سے انکار کردیا اگرچہ مرکز نے بار بار کہا کہ کوئی بھی رابطہ کار سے ملاقات کرسکتا ہے لیکن اس کے باوجود مزاحمتی قیادت نے پھر بھی ان کے ساتھ ملاقات نہیں کی۔ اسطرح وہ ہند نواز سیاسی لیڈروں کیساتھ ہی ملاقات کرسکے۔ سال گذشتہ میں قومی تحقیقاتی ایجنسی زبردست خبروں میں رہی کیونکہ اس نے بہت سے رہنمائوں جن میں خاص طور پر حریت کے کئی چھوٹے بڑے لیڈر شامل ہیں کو نئی دہلی بلا کر ان کو حوالہ رقومات اور ٹیرر فنڈنگ کیسوں کے الزامات کے تحت پابند سلاسل کیا جن میں گیلانی صاحب کا داماد بھی شامل ہے جبکہ ان کے دونوں فرزندوں کو بھی بار بار دہلی پوچھ گچھ کیلئے بلایا گیا۔ صلاح الدین کے فرزند کو بھی پابند سلاسل کیاگیا جبکہ کئی تاجروں کو بھی پوچھ کچھ کیلئے دلی بلا کر ان کو بعد میں جانے کی اجازت دی گئی۔ غرض سال گذشتہ کسی بھی طور پر امن نہیں رہا۔ جی ایس ٹی کے اطلاق سے تاجر پریشان ہو گئے۔ اس سال کے جاتے جاتے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پنچایت الیکشن کا اعلان کیاجس کے فوراًبعد مزاحمتی قیادت نے لوگوں سے کہا کہ وہ ان انتخابات کا بائیکاٹ کریں ۔ آنے والا سال اپنے دامن میں کشمیری عوام کیلئے کیاکچھ لائے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن آثار قرائین سے ایسا لگتا ہے کہ یہ سال بھی کشمیری عوام کیلئے مسرتوں یا خوشیوں سے بھرا ثابت نہیں ہوسکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں