نئے بجٹ کی مالیت 85ہزار کروڑ تک ہوگی

11جنوری کو بجٹ پیش کرنے کے موقعے پر وزیرخزانہ کی طرف سے ریاستی ملازمین کے لئے ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کے اطلاق کا اعلان متوقع
سرینگر/کشمیر نیوز سروس /85ہزارکروڑروپے مالیت کاسالانہ میزانیہ2018-19پیش کئے جانے مکان کے بیچ ریاستی وزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب احمددرابوکی جانب سے ریاستی ملازمین کیلئے ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کی اطلاق کااعلان متوقع ہے۔خیال رہے وزیرخزانہ نے گزشتہ مالی سال کابجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیاتھاکہ ریاستی ملازمین ساتویں تنخواہ کمیشن کے فوائداپریل2018سے حاصل کرپائیں گے ۔اس دوران ڈاکٹردرابونے ریاست کی اقتصادی ترقی کی شرح نمولگ بھگ7فیصدتک پہنچنے کادعویٰ کرتے ہوئے کہاہے کہ اگلے مالی برس کیلئے آمد ن واخراجات کابجٹ ایک اعشاریہ5لاکھ کروڑہوسکتاہے۔ریاستی وزیرخزانہ نے حالیہ برسوں کے دوران باغبانی اورتجارت کے شعبوں میں مثبت ترقی کارُجحان کاذکرکرتے ہوئے اسبات کااعتراف کیاہے کہ سیاحت اورصنعت کے شعبوں میں کم ترقی پائی گئی ۔ ریاستی وزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب درابو11جنوری 2018 کوریاستی اسمبلی میں مالی سال2018-19کیلئے جوسالانہ بجٹ یامیزانیہ پیش کرنے والے ہیں ،اُس کوحتمی شکل دی گئی ہے ۔بتایاجاتاہے کہ نئے سالانہ بجٹ کی مالیت 80ہزارکروڑروپے سے لیکر85 ہزار کروڑروپے تک ہوگی ،اوریہ موجودہ وزیرخزانہ کی جانب سے اسمبلی میں پیش کیاجانے والامتواترچوتھابجٹ ہوگاجبکہ اگلے مالی سال کیلئے آمدن اوراخراجات کابجٹ ایک اعشاریہ5لاکھ کروڑہوسکتاہے۔ڈاکٹردرابونے جی ایس ٹی کے اطلاق کے باوجودریاستی سرکارکی آمدن میں اضافہ ہونے کادعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ اب ریاستی سرکاراوراسکے ماتحت محکموں کی آمدن اوراخراجات میں کافی حدتک توازن پیداہوچکاہے ۔تاہم انہوں نے محکمانہ سطح پرمالی نگہداشت میں ہنوزخامیاں اورکمزوریاں موجودہونے کااعتراف کرتے ہوئے کہاکہ ابتدائی تین سہ ماہیوں کے دوران31دسمبر2017تک مختلف تعمیراتی ،ترقیاتی اورفلاحی پروجیکٹوں کیلئے مختص رقومات کا75فیصدصرف کیاجائیگا،اورباقی رقومات کوزیرتصرف لانے کیلئے حکام کویکم جنوری سے 31مارچ 2018تک کی ڈیڈلائن دی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ مختلف اسکیموں اورپروجیکٹوں کیلئے مختص رقومات کے غلط استعمال کی شکایات بھی ملی ہیں اوراس کاسدباب کرنے کیلئے ایک جامع اوردوررس پالیسی مرتب کی جارہی ہے ۔وزیرخزانہ نے بتایاکہ اگرمختص فنڈس کامقررہ وقت کے اندرصحیح صحیح استعمال کیاجاتاہے تونہ صرف عام آدمی کوراحت پہنچے گی بلکہ ریاست ترقی کی راہ پربھی کامیابی/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 کیساتھ اپناسفرجاری رکھ پائی گی۔ڈاکٹردرابوکے حوالے سے ایک نیوزرپورٹ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ لکھن پور چیک پوسٹ پرلیاجاناوالا2فیصدٹول ٹیکس جی ایس ٹی میں شامل یاضم نہیں کیاگیاہے ۔تاہم انہوں نے اسبات کااعتراف کیاہے کہ ابھی تک قالین صنعت سے جڑے جی ایس ٹی مسائل ومشکلات کوحل نہیں کیاگیاہے۔وزیرخزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ ملک کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں جموں وکشمیرمیں نوٹ بندی کازیادہ منفی اثراقتصادی اورترقیاتی سرگرمیوںنہیں پڑا۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کے اعلان کردہ80ہزارکروڑروپے مالیت کے ترقیاتی پیکیج کی بدولت ریاست جموں وکشمیرمیں ترقی کی شرح میں خاطرخواہ اضافہ ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ اب ریاست میں ترقی کی شرح7فیصدتک پہنچ گئی ہے جوقومی شرح ترقی سے زیادہ ہے ۔وزیرخزانہ کاکہناتھاکہ جب سال2014میں موجودہ ریاستی سرکارنے اقتدارسنبھالاتوسرمایہ اورآمد ن میں کوئی توازن نہیں تھابلکہ 30ہزارکروڑروپے کی سالانہ آمدن کے مقابلے میں اخراجاتی سرمایہ صرف10ہزارکروڑروپے تھا۔انہوں نے کہاکہ اب ریاست میں آمدن اورخرچہ جاتی سرمایہ میں توازن آچکاہے ۔ریاستی وزیرخزانہ نے کہاکہ حالیہ برسوں کے دوران باغبانی اورتجارت کے شعبوں میں مثبت ترقی کارُجحان پایاگیالیکن سیاحت اورصنعت کے شعبوں میں کم ترقی پائی گئی ۔اس دوران معلوم ہواکہ11جنوری کونئے مالی سال کیلئے اسمبلی میں سالانہ میزانیہ پیش کرتے ہوئے ریاستی وزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب احمددرابوکی جانب سے ریاستی ملازمین کیلئے ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کی اطلاق کااعلان متوقع ہے۔خیال رہے وزیرخزانہ نے گزشتہ مالی سال کابجٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیاتھاکہ ریاستی ملازمین ساتویں تنخواہ کمیشن کے فوائداپریل2018سے حاصل کرپائیں گے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں