عارضی ملازمین کی مستقلی کا مسئلہ

 ریاستی وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں ساٹھ ہزار عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا اعلان کرکے ان ملازمین کیلئے راحت کا سامان پیدا کیا جو سالہاسال سے اس بات کے انتظار میں تھے کہ کب ان کی ملازمت مستقل ہوگی اور کب انہیں ان تمام مراعات سے نوازا جائے گا جو عام ملازمین کو حاصل ہیں۔ آخر کار وہ گھڑی آہی گئی اور ریاستی حکومت نے بیک وقت ساٹھ ہزار عارضی ملازمین کی مستقلی کا اعلان کیا۔ ان کو 9زمروں میں رکھا گیا اور اسی حساب سے ان کی مستقلی کے خدو خال طے کئے جا رہے ہیں۔ ا س بارے میں کیجول ڈیلی ویجرس فورم کا کہنا ہے کہ سال 1994سے مختلف محکموں میں ڈیلی ویجروں یعنی عارضی ملازمین کی فوج کا م کررہی ہے اور لگ بھگ 85%کام یہی لوگ انجام دے رہے ہیں جس کا بار بار ریاستی حکومت کی طرف سے اعتراف کیا جارہا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود عارضی ملازمین کے جائیز مسایل و مشکلات کو حل نہیں کیاجارہا ہے ۔ فورم کے زعما ئ کا مزید کہنا ہے کہ آخر کار سال 2015میں ریاستی سرکار نے ان کی بھوک ہڑتال کے دوران اس بات کا اعلان کیا کہ مستقلی سے متعلق پالیسی پر عمل درآ مد شروع کیاجائے گا۔ چنانچہ بجٹ اجلاس کے دوران SRO 520جاری کیا گیا جس میں عارضی ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے کچھ اہم باتیں درج کی گئیں۔ فورم کے مطابق لیکن اس موقعے پر ریاستی حکام نے فورم کے زعما کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ایس آر او 520آخری حکمنامہ نہیں ہوگا بلکہ یہ صرف مستقلی کی شروعات ہیں۔ اور اس میں جو خامیاں پائی جاینگی ان کو دور کیا جائے گا۔ اور مستقل کئے جانے والے عارضی ملازمین کو وہی مراعات دی جاینگی جو مستقل کلاس فور ملازمین کو حاصل ہیں۔ فورم کے مطابق ان عارضی ملازمین جنہوں نے ابھی دس سال پورے نہیں کئے ہیں کو مقررہ کردہ وقت پورا کرنے تک non plan wages headکے تحت لگاتار ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔ اس ایس آر او میں یہ بات بھی درج ہے کہ لازمی اور ضروری ترامیم کرنے کا اختیار محکمہ فاینانس کو ہوگا۔ فورم نے کہا کہ لہٰذا اس ایس آر او میں جو خامیاں پائی جاتی ہیں ان کو دور کیاجانا چاہئے۔ ادھر بعض عارضی ملازمین نے الزامات عاید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کن کو مستقل کیا جارہا ہے کیونکہ جن محکموں میں وہ کام کرتے رہے ہیں وہاں کا عملہ کبھی ان کو ایک بات بتاتا ہے تو کبھی ان کو دوسری شرایط سے آگا ہ کرتا ہے غرض ان کو اس بات کا پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ ان کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پانچ پانچ دس دس برسوں سے مختلف محکموں میں باضابطہ کام کررہے ہیں لیکن ان کو بتایا جارہا ہے کہ صرف ان عارضی ملازمین کو ہی مستقل کیا جائے گا جنہوں نے بحیثیت عارضی ملازم کسی محکمے میں پندرہ برس تک کام کیا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ اگر عارضی ملازمین کیلئے پہلے سے ہی یہ قانون بنایا گیا ہے کہ سات سال تک کسی محکمے میں بغیر بریک کام کرنے والے عارضی ملازمین خود بخود مستقلی کے حقدار بنتے ہیں پھر کیا وجہ ہے آج ان کی مستقلی کیلئے دس دس پندرہ پندرہ سالوں کی بات کی جاتی ہے ۔ انہوں نے اس بارے میں وزیر اعلیٰ سے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں