جموں میں کنٹرول لائن پر صورتحال دھماکہ خیز

راجوری اور پونچھ کے بعد اب نوشہرہ سیکٹر میں فریقین کے درمیان شدید گولی باری ، سرحدی آبادی انتہائی خوفزدہ ، آٹو میٹک ہتھیاروں کااستعمال
سرینگر/کے این ایس /کے ایم این /صوبہ جموں میں حدمتارکہ پر صورتحال اب بھی دھماکہ خیز بنی ہوئی ہے کیونکہ برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان ایک مرتبہ پھرآتشی گولہ باری کا تبادلہ ہوا ۔ فائرنگ اور شلنگ کا تازہ واقعہ رجوری کے نو شہرہ سیکٹر میںصبح 9بجے پیش آیا جسکے نتیجے میںاس علاقے میں رہائش پزیر لوگوں میں خوف و دہشت کی لہر دوڈ گئی ۔ ہند پاک کے درمیان سرحدی کشیدگی روزافزو انتہائی تشویشناک رُخ اختیار کرتی جارہی ہے ۔دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ایک مرتبہ پھر آتشی گولہ کا تبادلہ ہوا ۔اطلاعات کے مطابق طرفین کے مابین تازہ آتشی گولہ باری کا تبادلہ لائن آف/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کنٹرول واقع رجوری کے نوشہرہ سیکٹر میں پیش آیا ۔زرائع کے مطابق پاکستانی فوج نے ایک مرتبہ پھر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذکورہ بالا سیکٹروں میں بھارت کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ آبادی والے علاقوں پر بھی ہلکے اور آٹو میٹک ہتھیاروں سے زور دار فائرنگ کی۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستانی رینجروںکی جانب سے ہلکے و خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ بدھوار کی صبح 9بجے سے لے کر تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی تاہم اس دوران پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں کسی نقصان کی کو ئی اطلاع نہیں ہے۔ ادھر لائن آف کنٹول پر تعائنات فوج نے پاکستانی فائرنگ کا معقول جواب دیا اور طرفین کے مابین تقریباً فائرنگ کا تبادلہ ایک گھنٹے تک جاری رہا ۔واضح رہے کہ جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر گذشتہ کئی روز سے کشیدگی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ پاکستان کی طرف سے کچھ روز قبلکیری سیکٹر میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس کے نتیجے میں ایک میجر سمیت4 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ 1 زخمی ہوا تھا۔جبکہ اس کے اگلے ہی روز پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا لزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر تعائنات بھارتی افواج کی فائرنک کے نتیجے میں اس کے 3اہلکار ہلاک ہو گئے ۔ادھرپاکستانی فوج اور وزارت خارجہ نے بھارتی میڈیا کے ان دعوئوں کو مسترد کردیا ہے کہ رائولاکوٹ سیکٹر میں کوئی بھی بھارتی فوجی لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستانی حدود میں داخل ہوا۔ منگل کو پاکستانی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ لائن آف کنٹرول کے رکھ چکری سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال گولی باری کے نتیجے میں اس کے3اہلکار ہلاک ہوگئے۔اس واقعہ کے بارے میں اگر چہ بھارت کی طرف سے سرکاری طور کوئی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم میڈیا رپورٹوں میں دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ فوج کے خصوصی تربیت یافتہ اہلکاروں نے کنٹرول لائن عبور کی اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں کارروائی انجام دیکر تین پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کردیا۔تاہم پاکستان نے باضابطہ طور ان دعوئوں کو مسترد کردیا ہے۔اس سلسلے میں پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ پیر کو لائن آف کنٹرول کے رکھ چکری سیکٹر میں ’’انڈین فوج کی بلا اشتعال فائرنگ نے غیر ریاستی عناصر کو آئی ای ڈی نصب کرنے کا موقع فراہم کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کے تین فوجی اہلکار ہلاک ہوئے‘‘۔ بیان میں کہا گیا ہے ’’ بھارت کے یہ جھوٹے دعوے لائن آف کنٹرول پر امن کے لیے اچھے نہیں ہیں‘‘۔ پاکستانی فوج نے بھی کسی بھارتی فوجی کے اُس کی حدود میں داخل ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔اس ضمن میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اپنی ٹویٹ میں کہا ’’ انڈین میڈیا کا یہ دعویٰ اسی بات کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں‘‘۔واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اسلام آباد میں مقیم بھارت کے نائب ہائی کمشنر کو طلب کر کے اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ بھارت2003 میں ہونے والے فائر بندی کے معاہدے کا احترام کرے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں