غیرمعیاری اور مہنگی ادویات

 وادی میں سب سے زیادہ ادویات کی خریدوفروخت ہوتی ہے ۔ حال ہی میں ایک سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ وادی میں بھارت کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں کشمیر اور خاص طور پر وادی میں لوگ سب سے زیادہ ادویات استعما ل کرتے ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ادویات کی سب سے بڑی منڈی ہونے کے باوجود ان کی قیمتوں کو نہ تو اعتدال پر رکھا جارہا ہے اور نہ ان کی کوالٹی کے بارے میں دھیان دیا جاتا ہے ۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ کون سی دوائی اصلی ہے اور کون سی نہیں۔ غالباًاس سلسلے میں کوئی معقول طریقہ کار ہی نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو آج لوگ اس بارے میں یہ شکایت نہیں کرتے بازاروں میں جو ادویات دستیاب ہیں وہ غیر معیاری ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات کی قیمتیں کبھی بھی اعتدال پر نہیں رکھی جاتی ہیں اور اس بارے میں کوئی ایسا میکنزم بھی نہیں ہے کہ قیمتوں میں اضافے کو روکا جاسکے۔ سرکار کا اس بارے میں طریقہ کار بھی حوصلہ افزا نہیں کیونکہ ہر دوسرے تیسرے دن ادویات کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں۔ کوئی پوچھنے یا روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ وادی میں لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ بازاروں میں دستیاب ادویات غیر معیاری ہوتی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیاجاچکا ہے کہ کوئی ایسا میکنزم نہیں ہے جس سے لوگوں کو بتایا جاسکتا کہ کو ن کون سی ادویات غیر معاری ہیں اور کہا سے اصلی اور معیاری ادویات دستیاب ہوسکتی ہیں۔ متعلقہ محکمہ جب کبھی کسی دوا فروش سے کوئی نمونہ اٹھاتا ہے تو یہاں فوری طور پر اس کی جانچ کا کوئی معقول انتظام نہ ہونے کی بنا ئ پر اس کو چندی گڈھ یا کولکتہ بھیجا جاتا ہے جہاں لیبارٹری جانچ کے بعد اس دوائی کے بارے میں رپورٹ ملتی ہے کہ یہ دوائی کس قسم کی تھی۔ اس سارے عمل میں مہینے لگ جاتے ہیں تب تک دوسری درجنوں غیر معیاری ادویات بازاروں میں پہنچ چکی ہوتی ہیں اور جس دوا فروش سے دوا کے نمونے اٹھاے گئے ہوتے ہیں وہ تب تک لاکھوں کا کاروبار کرچکا ہوتا ہے اور اس کے بعد معلوم نہیں کہ اس کیخلاف کاروائی کی بھی جاتی ہے یا نہیں کیونکہ کبھی کبھی باہر کی لیبارٹریوں سے رپورٹ آنے میں سال دو سال بھی لگ جاتے ہیں تب تک معاملہ سرد خانے میں پہنچ چکا ہوتا ہے اور اس طرح لوگ برابر غیر معیار ی ادویات کے عادی بنائے جاتے ہیں۔ اس سے قبل ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹروں اور دواساز کمپنیوں کے درمیان ساز باز ہوتی ہے اور ڈاکٹر صرف ان کمپنیوں کی ادویات تجویز کرتے ہیں جن سے وہ بھاری اور قیمتی تحفے تحایف وصول کرتے ہیں۔ ڈاکٹر یہ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں کہ آیا جو ادویات وہ تجویز کرتے ہیں وہ معیاری ہوتی ہیں یا نہیں ان کو اپنے مفادات اور مراعات سے غرض ہے۔ اسلئے ریاستی حکومت کو اس بارے میں کوئی ایسا موثر میکنزم تیار کرناچاہئے جس سے اس ساری خرابی کا سدباب ہوسکے اور کوئی بھی دوافروش غیر معیاری ادویات فروخت کرنے کی جرات نہ کرسکے۔ اور جو کوئی بھی اس بارے میں ملوث قرار دیا جائے گا اس کیخلاف سخت ترین قانونی کاروائی کی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں