راجوری کے بعد پونچھ سیکٹر میں بھی شدید گولی باری

جموں میں کنٹرول لائن پر ٹکرائو کی خطرناک صورتحال ،راجوری کے کیری سیکٹر کے بعد پونچھ میں بھی سرحدی آبادی ترک سکونت پر مجبور- پاکستانی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونیو الے فوجیوں کی لاشیں مسخ نہیں کی گئیں، دفاعی ترجمان کی وضاحت
جموں/کشمیر نیوز سروس /کیری سیکٹرفوج کے ایک میجر سمیت4 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ’’صوبہ جموں میںحد متارکہ پر ٹکرائوکی خطرناک صورتحال‘‘ پیداہوگئی ہے۔دوران شب ہندوپاک افواج کے درمیاں کئی سیکٹروں میں گولہ باری کاسلسلہ جاری ہے ۔دونوں ممالک کی افواج جموں خطے میں لائن آف کنٹرول پر آمنے سامنے آگئی ہیں ،جسکے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں صورتحال دھماکہ خیز بنی ہوئی ہے ۔تاہم طرفین کے مابین ہوئی تازہ فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ادھر فوج نے واضح کیا ہے کہ سنیچر کو پاکستانی فوج کی فائرنگ سے ازجان ہوئے فوجی اہلکاروں کی نعشوں کو مسخ نہیں کیا گیا ۔ حد متارکہ پر اُس وقت خاموشی ٹوٹ گئی جب اتوار کو پاکستانی فوج کی فائرنگ سے بھارتی فوج کا ایک میجر سمیت4اہلکار ازجان ہوئے ۔اس تازہ ہلاکت خیز واقعے کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول پر صورتحال انتہائی دھماکہ خیز بنی ہوئی ۔ہند پاک افواج کے درمیان راجوری اور پونچھ میں آر پار کی فائرنگ اور ماٹر گولوں کے تبادلے کے باعث سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں میں ایک مرتبہ خوف طاری ہوئی ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ راجوری میں فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے بعد اتوار کوبرصغیر کی دوایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان پونچھ سیکٹر میں فائرنگ اور ماٹر شلنگ کا تبادلہ ہوا ۔اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق اتوار کو جموں خطے میں لائن آف کنٹرول پر ہند پاک کی افواج/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کے درمیان ایک مرتبہ پھر شدید فائرنگ اور ماٹر گولوں کا تبادلہ ہوا ۔معلوم ہوا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان دوپہر 1بجکر30منٹ پر شاہ پور سیکٹر پونچھ میں ہند پاک کی افواج کے درمیان فائرنگ اور ماٹر شلنگ کا تبادلہ ہوا ۔دفاعی ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے راجوری کے بعد شاہ پور سیکٹر پونچھ میں بھارتی افواج کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنا نے کی غرض سے خود کار ہتھیاروں ہتھیاروں سے فائرنگ کی اورماٹر گولے بھی داغے ۔دفاعی ترجمان نے بتایا کہ اتوار کو مسلسل دوسری مرتبہ پاکستانی فوج نے جموں خطے میں پونچھ سیکٹر میں جنگ بندی معاہدہ2003کی خلاف ورزی کی ،جس کا موثر جواب دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں بھارتی فوج کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ان کا کہناتھا کہ فائرنگ اور ماٹر شلنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ یاد رہے کہ سنیچر کوضلع راجوری میں لائن آف کنٹرول ﴿ایل او سی﴾پر پاکستانی فائرنگ سے ایک افسر سمیت 4 فوجی اہلکار ازجان ہوگئے تھے،جسکے بعد حد متارکہ پر تنائو اور کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ۔اس دوران فوج نے واضح کیا ہے کہ سنیچر کو پاکستانی فوج کی فائرنگ سے ازجان ہوئے فوجی اہلکاروں کی نعشوں کو مسخ نہیں کیا گیا ۔اس سلسلے میں میڈیا میں آئی رپورٹس کے مطابق فوج نے کہا کہ سوشل میڈیا میںآئی رپورٹس میں بتایا گیا کہ مہلوک فوجیوں کی نعشیں مسخ کی گئی ،جبکہ یہ سرا سرا بے بنیاد ہے ۔دفاعی ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوج کی فائرنگ سے از جان ہوئے میجر سمیت4اہلکاروں کی نعشیں مسخ نہیں کی گئیںاور اس حوالے سے سوشل میڈیا میں آئی رپورٹس من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔دفاعی ترجمان نے بتایا کہ آہنی ریزوں اور فائرنگ کے نتیجے میں میجر سمیت4جوان ازجان ہوئے اور اُنکی نعشوں کو مسخ نہیں کیا گیا تھا ۔یاد رہے کہ پاکستانی فوج کی فائرنگ سے4بھارتی فو جیوں کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا میں یہ رپورٹس آئی تھی کہ مہلوک فوجیوں کی نعشیں مسخ کی گئی ہیں ،تاہم فوج نے ان رپورٹس کو یکسر مسترد کیا ۔اس دوران ہند پاک افواج کے درمیان جموں صوبے میں حد متارکہ میں آمنے سامنے آنے سے صورتحال دھماکہ خیز بنی ہوئی ۔سرحدوں علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں میں ایک مرتبہ پھر خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی اور آر پار کئی کنبے آتشی گولہ باری کے بعد محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہورہے ہیں ۔یہا ں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حد متارکہ پر ایسے وقت میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ،جب پاکستانی فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ وہ ملک کی سیول حکومت کی حمایت کریگی تاکہ بھارت کیساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات حل کئے جاسکیں۔انہوں نے پاکستانی سینٹ میں ملک کی سیکورٹی صورتحال اور سرحدوں سے متعلق معاملات کی جانکاری دی۔5گھنٹے تک ان کیمرہ اجلاس میں بھارت کیساتھ موجودہ پر تنائو صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ ملک کی کوئی بھی حکومت جو بھی فیصلہ سازی کرتی ہے فوج مکمل طور پر اسکی تائید کرے گی۔اجلاس کے دوران فوجی سربراہ نے بھارت کیساتھ امن مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہاتھا’ ہم بھارت کیساتھ معاملات پر امن بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں نہ کہ جنگ سے،اگر موجودہ صورتحال میں حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ بھارت کیساتھ بات چیت کرنی ہے تو فوج حکومت کی حمایت کرے گی‘۔انہوں نے مزید کہاتھا’ میری فوج ہمسائیوں کیساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کی حامی ہے‘۔انکا کہنا تھا’پاکستانی فوج بھارت اور افغانستان کیساتھ اچھے تعلقات کی حامی ہے‘‘۔سینٹ اجلاس میں باجوہ کا کہنا تھا’جنگ سے مسائل الجھتے ہیں ،انکا حل نہیں نکلتا،اگر واقعی بھارت اور پاکستان میں یہ خواہش ہے کہ مسائل کا حل بات چیت میں پوشیدہ ہے تو جنگ کے بجائے امن کو موقع فراہم کیا جانا چاہیے اور اس کے لئے پاکستانی فوج ہر اس قدام کی حمایت کرے گی جو اس ضمن میں اٹھایا جائے‘۔اس بیان کے رد عمل میں بھارت کے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے کہاتھا کہ بد امنی کے ماحول میں پاکستان کیساتھ مذاکرات ممکن نہیں۔آرمی چیف نے پاکستان پرجموں وکشمیرمیں جنگجوگروپوں کی مددکاالزام عائدکرتے ہوئے کہاتھاکہ ہمسایہ ملک بھارت کیساتھ امن کاخواہاں نہیں ہے۔جمعہ کے روز بھارتی فوج کی جانب سے راجستھان کے صحرائی علاقہ تھر میں’ ہمیشہ جیت‘ نامی فوجی مشق کا اہتمام کیا گیا ، جس میں زمینی فوج کے علاوہ ائر فورس کے جہازوں نے بھی حصہ لیا۔ زمینی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت سمیت فوج اور فضائیہ کے اعلیٰ حکام اس موقعہ پر موجود تھے۔ آرمی چیف نے کہا تھاکہ پاکستان کی حرکات و سکنات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ بہتر اور پر امن تعلقات کا خواہاں نہیں ہے۔ انہوں نے کہاتھا کہ پاکستان کو جنگجو گروپوں کی مدد اور اعانت بند کرنا ہوگی ، تب جاکے ملک کے ساتھ مذاکرات بحال اور تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن اس کیلئے ہمسایہ ملک کو امن کے حوالے سے عملی ثبوت فراہم کرنا ہونگے۔ انہوں نے کہاتھا کہ جموںوکشمیر میں فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں ملی ٹنسی کا خاتمہ کرنے کے سلسلے میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں اور جب تک کشمیر میں ملی ٹنسی کا خاتمہ نہیں ہوگا تب تک یہاں آپریشن آل آئوٹ جاری رہے گا۔یاد رہے کہ سنیچر کو راجوری میں لائن آف کنٹرول ﴿ایل او سی﴾پر پاکستانی فائرنگ سے ایک افسر سمیت 4 فوجی اہلکار ازجان ہوگئے تھے۔پاکستانی فوجیوں نے ہفتہ کو دوپہر کے وقت راجوری کے بمبر گلی سیکٹر کے چنگس علاقہ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں پر شدید فائرنگ کی تھی۔ فائرنگ میں شدید طور پر زخمی ہونے والے فوجی افسر موہرکر پرافولا امباداس، لانس نائیک گرمیل سنگھ اور سپاہی پرگت سنگھ موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ دو زخمی فوجیوں کو ائرلفٹ کرکے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں لانس نائیک گرمیت سنگھ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔32 سالہ میجر موہرکر پروفولا امباداس مہاراشٹر کے بھنڈارا ضلع کا رہنے والا ہے اور اس کے پسماندگان میں اس کی بیوی اوولی موہرکر ہے۔34 سالہ لانس نائیک گرمیل سنگھ کا تعلق پنجاب کے ضلع امرتسر سے ہے اور اس کے پسماندگان میں بیوی کلجیت کور اور ایک بیٹی ہے۔30 سالہ سپاہی پرگت سنگھ کا تعلق ہریانہ کے کرنل ضلع سے ہے اور اس کے پسماندگان میں بیوی رمن پریت کور اور ایک بیٹی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں