مانسبل میں صبح سویرے مقامی پہاڑی کھسک گئی بھاری مٹی کے تودے گرتے ہی لوگ گھروں سے بھاگ گئے

گاندربل / رحیم رضوان/گاندربل کے کوند بل علاقے میں اتوار کے روز صبح چھ بجے ایک بہت بڑا حادثہ پیش آنے سے پہلے ہی ٹل گیا البتہ لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا اورلوگ/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 اس وقت اپنے اپنے گھروں سے بھاگنے لگے جب آبادی کے نزدیک ایک پہاڑی کھسک گئی تاہم کوئی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے ۔تحصیلدار لار ڈاکٹر ہارون الرشید نے نمائندے کو تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اتوار کے روز صبح چھ بجے اس وقت ایک بہت بڑا حادثہ پیش آنے سے ٹل گیا جب جھیل مانسبل کے کنارے پر آباد کوند بل کی آبادی کے سامنے ایک نزدیکی پہاڑی کھسک گئی ۔ پتھر اور مٹی کھسکنے کی آواز سنتے ہی مقامی لوگ اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل کر محفوظ مقامات کی طرف چل پڑے اس دوران پہاڑی کھسکنے کا یہ سلسلہ اچانک بند ہوگیا اورایک بہت بڑا حادثہ پیش آنے سے ٹل گیا البتہ اس حادثے میں چند بجلی کھمبوں کو نقصان پہنچا ہے ، اس ضمن میں مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ چند لوگ وہاں موجود پرانی دو پتھر کی کانوں میں ابھی بھی غیر قانونی طور پتھر نکال رہے ہیں جس سے یہ پہاڑ اکثر و بیشتر کھسک جاتی ہے اور اس سے کسی بھی وقت کوئی بھی بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے جس سے مشہور سیاحتی مقام جھیل مانسبل زوال پذیر ہونے کا خطرہ لاحق ہے اورکوند بل کی آبادی کو بھی جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ عدالت عالیہ نے اس غیر قانونی کام کو انجام دینے پرباضابطہ طور پابندی عائد کی ہے اس کے برعکس چند خود غرض لوگ چوری چھپے یہ کام انجام دینے میں سرگرم عمل ہے اور اس پر روک لگانے کیلئے ضلع انتظامیہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گاندر بل ڈاکٹر پیوش سنگلا نے نمائندے کو یقین دہانی دیتے ہوئے کہا کہ کوند بل کی آبادی اور جھیل مانسبل کی رعنائی برقرار رکھنے کیلئے اس پہاڑ کے سامنے دیوار بندی کی جائے گی تاکہ کوئی بھی شخص چوری چھپے وہاں سے پتھرنہ نکال سکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں