ڈاکٹرصاحبان عوامی مشکلات بھی مدنظر رکھیں

 ڈاکٹرس ایسو سی ایشن نے وادی میں ڈاکٹروں کی طرف سے مہنگے برانڈ کے بجائے سستے جینرک ادویات تجویز کرنے کویقینی بنانے کی تلقین کی ہے اورکہا کہ اس کیلئے قانون وضع کیاجانا چاہئے۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ اس بارے میں قانون وضع کرنے سے ڈاکٹر اس بات کے پابند ہوجائینگے کہ وہ جینرک ادویات ہی تجویز کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کو حاصل مخصوص آئینی پوزیشن کافایدہ اٹھاتے ہوئے اس بارے میں ریاست اپنا قانون بنانے کا اختیار رکھتی ہے۔ ایسا قانون بنانے سے ایسے غریب مریض بھی ادویات خرید سکیںگے جو مہنگے برانڈ کی ادویات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس ریاست کی 22فی صد آبادی یعنی پچیس لاکھ لوگ مہنگی ادویات خریدنے سے قاصر ہیں اس طرح وہ بے موت مارے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برانڈڈ ادویات کے بجائے جینرک ادویات تجویز کرنے سے غریب سے غریب مریض بھی ادویات بھی خرید سکتے ہیں۔ ڈاکٹر نثار نے انکشاف کیا ہے کہ صرف 8.8جینرک ادویات ہی تجویز کی جاتی ہیں جبکہ باقی برانڈڈ ادویات ڈاکٹر تجویز کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برانڈڈ ادویات کا سستا نعم البدل اگر موجودہ ہے تو پھر برانڈڈ ادویات تجویز کرنے کی کونسی وجہ ہے۔ جہاں تک ڈاکٹرس ایسو سی ایشن کا تعلق ہے تو یہ ڈاکٹروں کی ایک با اثر تنظیم ہے جس میں شامل ڈاکٹر صاحباں ہمیشہ حق و صداقت کی باتیں کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں خواہ اس سے ان کا نقصان ہی کیوں نہ ہو اور اسی بات سے لوگ اس ایسوسی ایشن کو عزت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اس تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر نثار نے خود ہی اپنے ہم پیشہ ڈاکٹروں پر الزامات عاید کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اسلئے برانڈڈ ادویات تجویز کرتے ہیں کیونکہ ان کے اور دواساز کمپنیوں کے درمیان ملی بھگت ہوتی ہے اور وہ ان کمپنیوں سے قیمتی تحفے تحایف حاصل کرتے ہیں اسی لئے ان کو خوش رکھنے کیلئے برانڈڈ ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ عام لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ برانڈڈ کیا ہوتا ہے اور جینرک کس چیز کا نام ہے عام لوگ صرف ادویات ہی جانتے ہیں اسلئے ڈاکٹر موصوف کو یہ بات پوری طرح واضح کرنی چاہئے کہ جینرک اور برانڈڈ ادویات میں کیا فرق ہے او رکس طرح ایک مریض ڈاکٹر کے ساتھ اس بات پر بحث کرسکتا ہے کہ ڈاکٹر کیونکر اسے جینرک کے بجائے برانڈڈ ادویات استعمال کرنے کی صلاح دیتاہے۔ ڈاکٹر موصوف کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہ صحت کا معاملہ ہے اس پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ ناممکن ہے لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ ڈاکٹروں کو مریضوں کو لوٹنے کا عمل ترک کرنا چاہئے ورنہ ڈاکٹری جیسے معزز اور پر وقار پیشے پر سے لوگوں کا عتبار ختم ہوجائے گا اور لوگ ڈاکٹروں کا مقابلہ ان لوگوں سے کرینگے جن کی سماج میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں