بنگلور میں کشمیری طلبہ پر حملہ افسوسناک

ایک بار پھر بھارت میں کشمیریوں کے تئیں نفرت کے جذبات کا اس وقت اظہار کیا گیا جب بنگلور میں دو کشمیری بھائیوں کی صرف اس وجہ سے پٹائی کی گئی کیونکہ وہ کنڑ زبان میں بات نہیں کرسکے۔ یہ معاملہ اخبارات کے ذریعے منظر عام پر آیا جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ بنگلور میں جرائم پیشہ افراد کی ایک جماعت جن کاتعلق ایک مخصوص سیاسی پارٹی سے بتایا گیا نے ایک گاڑی کے نمبر پلیٹ پر کشمیر کا نمبر یعنی JK دیکھا جس کی بنا پر انہوں نے گاڑی بزور طاقت روک دی اور اس میں سوار دو کشمیری بھائیوں کو زد کوب کیا۔ جبکہ بعد میں یہ کہا گیا کہ وہ کنڑ میں بات نہیں کرسکے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہوا وہ ٹھیک نہیں ہوا جو لوگ ریاست سے باہر کشمیریوں کو بلاوجہ ستاتے ہیں یا ان کو مختلف طریقوں سے تنگ طلب کرتے ہیں ان کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس طرح کے طرز عمل سے وہ کشمیری عوام میں ایسے جذبات کو بھڑکا رہے ہیں جن سے کشمیری خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں اور جب اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو ان کے جذبات کو تقویت ملتی ہے۔ جو لوگ کشمیری عوام کے ساتھ نفرت کرتے ہیں ان کوباہر کی ریاستوں میں تنگ طلب کرتے ہیں وہ اپنے ملک و قوم کا کوئی بھلا نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ اس سے اپنی قوم کو نا قابل تلافی نقصان پہنچارہے ہیں۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ نے اس پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے وہاں کی انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا جس پر فوری کاروائی کرکے دس میں سے دو کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ صورتحال یہ ہے کہ بنگلور میں اس وقت ہزاروں کشمیری طلبہ اور طالبات مختلف تعلیمی اور تربیتی اداروں میں زیر تعلیم و تربیت ہیں جو اس طرح کے واقعے سے کافی خوفزدہ ہوگئے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے والدین سے کہا ہے کہ وہ خود کوغیر محفوظ تصور کرتے ہیں اسلئے وہ وہاں سے واپس آنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے از خود یہ معاملہ حکومت کرناٹک کی نوٹس میں لایا تو وہ تھوڑا سا مطمئن ہوئے اور انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے ٹیلی فون کے بعد مختلف کالجوں کی انتظامیہ نے خاص طور پر وہاں کشمیری طلبہ اور طالبات کو اس بات کا یقین دلایا کہ ان کے ساتھ کوئی ہاتھ تک نہیں لگاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جو واقعہ دو کشمیری بھائیوں کے ساتھ پیش آیا مقامی غنڈوں کی کارستانی ہوگی لیکن ان کیخلاف جب تک سخت کاروائی نہیں کی جائے گی تب تک کشمیری طلبہ اور طالبات کو اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ آج اگر ایک جگہ پر کشمیریوں کے ساتھ اس طرح کا وحشیانہ سلوک کیا گیا تو کل دوسری جگہ پر اسی طرح کا واقعہ پیش آسکتاہے اسلئے وزیر اعلیٰ کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ جہاں ایسا ہوا ہے وہاں سب کے سب ملوث غنڈوں کو گرفتار کرکے ان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ دوسرے اسی طرح کے عنصر عبرت حاصل کرسکیں اور کوئی دوسرا اس طرح کی واردات انجام دینے سے قبل ہزار بار اس بارے میں سوچے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں