مسائل کے ڈھیر.حل ندارد

وادی کے کونے کونے میں رہنے والے لوگ آج کل کبھی بجلی کا رونا رورہے ہیں تو کبھی پانی کی عدم دستیابی کے بارے میں احتجاج کررہے ہیں۔ کبھی سڑک کا معاملہ لوگوں کو درپیش ہے تو کبھی ٹرانسپورٹ کے بارے میں لوگ نالاں ہیں کہ شام کے بعد کسی بھی روٹ پر گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔ غرض ہر سمت اور ہر طرف مسایل و مشکلات کے ڈھیر۔ ابھی حال ہی میں نیشنل کانفرنس نے لالٹین ریلی نکالی اور کہا کہ بجلی کی عدم فراہمی نے عام لوگوں کوسخت مشکلات میں ڈالدیا ہے۔ ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سارے معاملات پر ریاستی حکومت کا کیا ردعمل ہے وہ کس حد تک لوگوں کے مسایل و مشکلات حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔ ان دنوں اخبارات بھی اس طرح کی خبروں سے بھرے رہتے ہیں کہ دربار موئو کے ساتھ ہی انتظامیہ پر جمود طاری ہوگیا اور لوگوں کو درپیش مسایل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اور اسطرح وہ خود کو بے بسی اور بے کسی کے عالم میں محسوس کررہے ہیں۔ اس سے پہلے بھی اور آج بھی بجلی کا مسئلہ سرفہرست ہے کوئی بھی علاقہ ایسا نہیں جہاں کے لوگ اس بارے میں شکایت نہ کرتے ہوں۔ لیکن متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں آرہا ہے۔ سردیوں کے ایام میں ندی نالوں میں پانی کی سطح کم ہوتی ہے یہ بات سب کو معلوم ہے جس کا لازمی اثر بجلی کی سپلائی پوزیشن پر بھی پڑتا ہے۔ لیکن اس مسئلے کو اس طرح حل کیاجاسکتا تھا جب ہر علاقے کو بار ی باری بجلی فراہم کی جاتی لیکن اس کے برعکس آج کل یہ بات مشاہدے میں آرہی ہے کہ کسی بھی علاقے میں بجلی کی منصفانہ تقسیم نہیں ہورہی ہے۔ کسی شیڈول پر عمل نہیں ہورہا ہے اور نہ ہی لوگوں کی اس بارے میں شکایتوں کا ازالہ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح پانی کی فراہمی کا مسئلہ بھی آج کل لوگوں کیلئے درد سر بن کر رہ گیا ہے جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ بھی اب عام سی بات بن کر رہ گئی ہے اس بارے میں محکمہ امور صارفین اور عوامی تقسیم کاری کی کارکردگی انتہائی ناقص قرار دی جارہی ہے۔ کیونکہ اس محکمے کے چکنگ سکارڈ کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ماضی میں کبھی کبھار اس محکمے کے چکنگ سکارڈ بازاروں کا معاینہ کرتے ہوئے دیکھے جارہے تھے لیکن اب یہ سلسلہ ہی ختم کردیا گیا ہے اور اب عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس وقت خاص طور پر ساگ سبزیوں کی قیمتیں حد سے زیادہ بڑھادی گئی ہیں۔ دکاندار ہو ںیا فٹ پاتھ والے یہ لوگ قیمتوں کو بڑھانے کا فیصلہ از خود کرتے ہیں اور کوئی ان کو پوچھتا تک نہیں۔ کیونکہ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ آج کسی سبزی کی قیمت ایک ہے تو کل اس میں اچانک اضافہ کیا جاتا ہے ایسا کیوں ہورہا ہے جب ان کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں تو پھر یہ لوگ ازخود قیمتوں میں اضافہ کرکے عام لوگوں کی جیبیں کاٹتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں