کشمیر میں ملی ٹینسی اور پتھرائو کے واقعات پر راتوں رات قابو نہیں پایاجاسکتا ہےالبتہ سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل سے حالات بہتر ہورہے ہیں :جنرل بپن راوت

نئی دہلی /کشمیر میں پتھرائو اور ملی ٹنسی کے فوری حل کوناممکن قرار دیتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ تین دہائیوں کی شورش پر راتو ں رات قابو نہیں پایا جاسکتا ہے ،تاہم کشمیر میں فوج ،بی ایس ایف ،سی آرپی ایف اور پولیس مشترکہ طور پر کامیابی کے ساتھ کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار کی شہ پر وادی کشمیر میں کی جارہی خشت بازی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے ۔ اتر پردیش کے وارانسی میں فوج کی ایک تقر یب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا کہ وادی کشمیر میں ملی ٹنسی اور سنگبازی کے معاملے کو راتوں رات حل نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ان کا کہناتھا کہ وادی کشمیر میں پتھرائو کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا ’وادی کشمیر میں کسی حد تک پتھرائو کے واقعات میں کمی آئی ہے ‘۔جنرل بپن راوت نے مزید کہا کہ فوج ،بی ایس ایف ،سی آر پی ایف اور پولیس کے درمیان بہتر تال میل ہے جسکی وجہ سے مشترکہ آپریشنز میں کامیابیاں بھی مل رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملی ٹنسی اور پتھرائو کے مسئلے کا حل راتوں رات تلاش نہیں کی جاسکتا ہے اور نہ ہی نکل آسکتا /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
ہے اور یہ کہ اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ،انٹلی جنس ایجنسیاں اور ریاستی انتظامیہ تمام تر اقدامات اٹھارہی ہے ،تاکہ وادی کشمیر میں ملی ٹنسی کا خاتمہ ہو اور امن قائم ہو ۔ادھر قومی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بری فوج کے سربراہ بپن راوت نے کہا کہ ملک کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہندوستان کے پاس کافی ہتھیار ہیں، جو مسلسل ’اپ گریڈ‘ کیا جا رہے ہیں۔’گورکھا رائفلز‘ کے200ویں یوم تاسیس کی تقریب میں یہاں شرکت کرنے آئے جنرل راوت نے نامہ نگاروں کے ایک سوال کے جواب میں کہا’’ملک کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہندوستانی فوج کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں ہے، جدید ہتھیاروں کو مزید ’اپ گریڈ ‘کیا جا رہا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے حالات کو معمول پررکھنے کی تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔اس سے پہلے جنرل راوت نے قدیم شری کاشی وشوناتھ مندر میں درشن و پوجا کیا۔ کل انہوں نے دشاشومیدھ گھاٹ پر عالمی شہرت یافتہ شام کی گنگا آرتی میں شامل ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ 9 گورکھا رائفلز ﴿39 جی ٹی سی﴾ نے اپنے قیام کے 200 سال مکمل کرکے تاریخ رقم کی ہے۔ ہندوستانی فوج کی تاریخ میں اسے سنہری حرفوںمیں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’200 ویں یوم تاسیس میں شامل ہونے پر مجھے فخر ہے‘۔انہوں نے کہا کہ9 گورکھا رائفلز‘ کو 1817 میں بنارس ﴿وارانسی﴾ میں تشکیل کیا گیا، جس نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران برٹش انڈین آرمی اور آزادی کے بعد ہندوستانی فوج کے ایک اہم حصہ کے طور پر بہت سی جنگوں میں اپنی بہادری کی مثال قائم کی تھی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں