سیاسی نظر بندوں کی حالت ِ زار پر میرواعظ کااظہار تشویش- ریاست کی صورتحال کو حد درجہ مخدوش اور اذیت ناک قرار دیا

سرینگر/ حریت کانفرنس’ع‘ کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے جموںوکشمیر کی سیاسی صورتحال کو حد درجہ مخدوش اور اذیت ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر طرف ظلم ، جبر، مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔ جنوبی کشمیر ہو یا وسطی کشمیرہر جگہ یہاں کے نوجوانوںکو جس طرح سرکاری سطح پر شدید ظلم و زیادتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ عالمی برادری خصوصاً انسانی حقوق اور انسانی اور جمہوری قدروں پر یقین رکھنے والے اقوام کیلئے چشم کشا ہے ۔ مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے جموںوکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار اور جیل حکام کی جانب سے ان کے ساتھ روا رکھے جارہے غیر انسانی سلوک کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے حقوق بشر کے عالمی اداروں ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ، اورICRC سے اپیل کی کہ وہ بذات خود ان جیلوں کا دورہ کرکے وہاں مقید قیدیوں کی ناگفتہ بہہ حالت کا جائزہ لیں۔ میراعظ نے کہا کہ کٹھوعہ ، ادھمپور، جموں اور تہاڑ جیل میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوںکو اذیت ناک صورتحال کا سامنا ہے ، بہت سے نوجوانوںکو سیلوں میں رکھ کر اذیتیں دی جارہی ہیں۔ تہاڑ جیل میں مقید مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوںکو عادی مجرموںکے ساتھ رکھا گیا ہے جو ان کو ذہنی اور نفسیاتی اذیتیں دے رہے ہیں۔ میرواعظ نے سوال کیا کہ کیا کشمیری قیدیوں کے حقوق نہیں ہیں؟ باوجود اس کے کہ یہ لوگ پیشہ ور مجرم نہیں بلکہ سیاسی قیدی ہیںاس کے باوجود ان لوگوںکو جنیوا کنونشن کے تحت حاصل طبی ،اور دیگر سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے۔ میرواعظ نے ان قیدیوں کے تئیں حکومتی اداروں کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی سلوک کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے قیدی ایسے ہیں جن کی مدت قید مکمل ہوئی ہے لیکن ایک طرف ان کیخلاف عائد پی ایس اے ختم ہو جاتا ہے لیکن فوراً دوسرے فرضی مقدمے میں ان کو ملوث کرکے پابند سلاسل کیا جارہا ہے اور اس طرح جان بوجھ کر ان کی مدت قید کو بلا وجہ طول دیا جارہا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں