انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے اربعین تقریبات،مجالس اور جلوس ہائے عزا ئ کا انعقاد - نیک نیتی پر مبنی مذاکراتی عمل آگے بڑھنے کا واحد راستہ:آغا حسن

سرینگر/شہدائے کربلا(ع) کے چہلم کی مناسبت سے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے وادی کے طول و عرض میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ چہلم تقریبات کا سلسلہ 17 صفرالمظفر سے 21 صفرالمظفر تک متواتر جاری رہا۔اس سلسلے میں 17 صفرالمظفر کو نوگام پائین ، 19 صفرالمظفر کو لبرتل و درہ بل بڈگام میں مجالس عزا ئ کا انعقاد ہوا جبکہ 20 صفرالمظفر کو وادی بھر میں مجالس عزائ کا انعقاد کیا گیا اور یوم اربعین کے مرکزی جلوس انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینٔر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں آستانہ شریف بڈگام اور زیلدار محلہ سعیدہ کدل سرینگر سے برآمد کئے گئے جن میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوںنے شرکت کی۔مرکزی امام باڑہ بڈگام میںبھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے یوم اربعین کی تاریخی اہمیت پر مفصل روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ اربعین قیام حسین(ع) کے فکرو پیغام کی تشہیر کے حوالے سے تاریخ اسلام میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور شہدائے کربلا کے مقدس مشن کے ساتھ تجدید وفا کا دن ہے۔ کربلائے معلی میں چہلم کا ہمہ گیر اجتماعِ عشق و عقیدت اسی تجدید وفا کا علامتی مظاہرہ ہے۔مجالس عزائ کے دوران کشمیری مرثیہ کے جن نامور ذاکرین نے مرثیہ خوانی کی ان میں ذاکر مصطفی علی،سید یوسف ڈب، علی محمد نجار، علی محمد راتھر، تصدق حسین، غلام محمد خانیاری، غلام محمددرگنڈی،سید طاہر حسین موسوی، سید اعجاز کاظمی، نثار حسین ہری نارہ ، ذاکر سید اشرف وغیرہ شامل ہیں۔اس موقعہ پر آغا حسن نے حکومت ہند کی طرف سے دنیشور شرما کی قیادت میں شروع کی گئی مذاکراتی عمل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے اور کسی بھی مذاکراتی عمل کی کامیابی کا راز خلوص و سنجیدگی اور نیک نیتی میں مضمر ہوتا ہے۔ آغا حسن نے کہا کہ مذاکراتی عمل کے لئے موجودہ ماحول کافی حد تک سازگار ہے ۔ کشمیریوں کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے اگر حکومت ہند حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے وسیع قلبی کا رویہ اختیار کرے تو موجودہ مذاکراتی عمل صحیح سمت کی جانب ایک سنجیدہ قدم ثابت ہوسکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ اگر مذاکرات کے گزشتہ ادوار اور سابقہ مذاکراتی ٹیموں کی سفارشات کوحکومت ہند نے خاطر میں لایا ہوتا تو مزاحمتی قیادت کوموجودہ مذاکراتی ٹیم سے ملنے میں آج کوئی دشواری پیش نہ آتی ۔ آغا حسن نے امید ظاہر کی کہ موجوہ مذاکراتی عمل کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے دنیش شرما جی حکومت ہند سے ایسے اقدامات کا تقاضا کریں گے جن سے مذاکراتی عمل کی اعتباریت پر کشمیری عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں