شہدائے کربلا نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کو دوام بخشا:مسرور - مذاکرات کارکے مشن کشمیر کو وقت کا زیاں قرار دیا

سرینگر/ اتحاد المسلمین کے زیر اہتمام شہدائے کربلا کے چہلم کے سلسلے میں وادی کے مختلف مقامات پر تقاریب ،مجالس ، جلوس ہائے اربعین کا اہتمام کیا گیا جس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ شہدائے کربلا کے چہلم کے سلسلے میں تنظیم کے زیر اہتمام سجاد آباد چھتہ بل سرینگر میں سب سے بڑی مجلس عزا کا انعقاد ہوا جس میںوادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی ۔ دن بھر نامور ذاکراین کرام نے مرثیہ خوانی سے عزاداروں کو مستفید کیا اور بعد میں جلوس اربعین برآمد کیا گیا۔نماز جمعہ کے موقعہ پر عزاداروں کے جم غفیر سے اپنے خطاب میں اتحاد المسلمین کے صدر مولانا مسرور عباس انصاری نے شہدائے کربلاکی عظیم شہادت کو پوری انسانیت کیلئے فلاح کا ضامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین (ع) اور اس کے جانثار اصحاب نے کربلا میں اللہ کی راہ میں اپنی جانوںکا نذرانہ پیش کرکے اسلام اور انسانیت کو قیامت تک کیلئے ابدی دوام عطا کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کربلا کے معنوی اہداف پر سیر حاصل روشنی ڈالی اور شہادت عظمیٰ کے مختلف گوشوںکو اجاگر کیا۔ حریت کانفرنس کے سینئر رہنما نے کہا کہ حق و باطل کی کشمکش ازل سے ابدتک جاری رہے گی اور اس جنگ میں جیت ہمیشہ حق پرستوں کی ہوئی ہے اور ہوگی۔ جناب انصاری نے کہا کہ کربلا کسی حادثے کا نام نہیں ہے بلکہ مسلسل تاریخی عوامل کے ساتھ ظہور پذیر ہونے والا واقعہ ہے جس نے حق کو ہمیشہ کیلئے سربلند اور باطل کو نیست و نابود کردیا ۔انہوں نے وطن عزیز کی غیر یقینی سیاسی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنے بنیادی حق، حق خودارادیت کے حصول کیلئے جو عظیم جانی و مالی قربانیاں پیش کی ہیں اور کررہے ہیں ان کا تقاضا ہے کہ پوری قوم اور قیادت ان قربانیوں کے تئیں استقامت اور وابستگی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جائز آواز کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبایا جارہا ہے ، مزاحمتی قیادت کی پر امن سرگرمیوں پر طاقت کے بل پر قدغنیں عائد کی جارہی ہیں ۔ سینکڑوں کشمیری حریت پسند نوجوانوںکو پس زندان انکی مدت قیدمیں بلا وجہ طول دیا جارہا ہے اور یہ سب حربے اس لئے آزمائے جارہے ہیںتاکہ یہ قوم اپنی جائز جدوجہد سے دستبردار ہو سکے۔ انہوں نے کہاکہ کسی قوم کی جائز آواز کو آج تک طاقت کے بل پر دبایا نہیں جاسکا ہے اور نہ استعماری حربے ایک قوم کو اپنی حق و انصاف سے عبارت جدوجہد سے دستبردار کرنے میں کامیا ب ہو سکتے ہیں۔مسرور انصاری نے نام نہاد مذاکراتکار کے مشن کشمیر کو وقت کا زیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک بامعنی اور نتیجہ خیز سہ فریقی مذاکراتی عمل ہی دیرینہ تنازعہ کشمیر کو حل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتا ہے اور جب تک اس ضمن میں ٹھوس بنیادوں پر اقدامات نہیں اٹھائے جاتے تب تک کوئی بھی مذاکراتی عمل ایک لاحاصل مشق کے سوا کچھ نہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں