مشن کشمیر اور وزیر داخلہ کا حالیہ بیان

 مرکز کی طرف سے نامزد کئے گئے مذاکرات کار دنیشور شرما وادی کا تین روزہ طوفانی دورہ مکمل کرنے کے بعد جموں پہنچ گئے جہاں انہوں نے مختلف مکتب ہاے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کرکے اس مسئلے کے حوالے سے ان کے خیالات سے آگاہی حاصل کرلی وہ گورنر اور وزیر اعلیٰ سے بھی ملے۔ وادی میں قیام کے دوران انہوں نے بہت سے وفود سے ملاقاتیں کیں اس کے علاوہ بہت سے لوگ انفرادی حیثیت سے بھی ان سے ملے اور ان کو اپنے خیالات اور تجاویز سے آگاہ کیا۔ یہ مسڑ شرما کے مشن کشمیر کا پہلا دورہ تھا جو انہوں نے مکمل کرلیا ہے اور جیسا کہ خبروں سے ظاہر ہورہا ہے کہ وہ اب لداخ بھی جارہے ہیں اور یہ ان کو سونپے گئے مشن کا ایک حصہ ہے کیونکہ مسڑ شرما نے بتایا کہ وہ کشمیر کے تینوں خطوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے مل کر مسلئے کے بارے میں ان کی رائے معلوم کرینگے۔ اگرچہ وادی میں ان کی آمد پر کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیاگیا لیکن یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ بہت سے وفود ان ملے اور ان کو اپنی رائے سے آگاہ کیا لیکن وادی میں قیام کے دوران نیشنل کانفرنس کی طرف سے ان سے ملاقات سے انکار نے بہت سے سوالات کو جنم دیا۔ دینشور شرما سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملنے کیلئے ان کی رہایش گاہ واقع گپکار گئے اور ان کے ساتھ بات چیت کی لیکن اس ملاقات کے بارے میں نیشنل کانفرنس نے کہا کہ یہ نجی نوعیت کی ملاقات ہے اور اس کا پارٹی کے موقف سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس ملاقات کے بعد عمر عبداللہ نے اخباری نمایندوں کو بتایا کہ مذاکرات کار کا دائیرہ اختیار غیر واضح ہے ان کے اس بیان کی اس طرح وضاحت کی جاسکتی ہے کہ جو کچھ مذاکرات کار کے دائیرہ اختیار میں رکھا گیا ہے وہ اس سے ذرہ بھر بھی ادھر ادھر نہیں جاسکتے ہیں۔ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کو ہی ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ وزیر اعظم مودی کو بات چیت کیلئے خود کشمیر آنا چاہئے تھا کیونکہ اس سے یہ عمل اور زیادہ سنجیدہ اور پر اثر بن سکتاتھا لیکن انہوں نے مذاکرات کارکا تعین عمل میں لاکر اس سارے عمل کو بقول ان کے ایک فضو ل مشق بنا کے رکھ دیا۔ اس بارے میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اب تک درجنوں نمایندے اور ڈیلی گیشن یہاں آے لیکن ان کی آمد سے لوگوں کوکوئی فایدہ نہیں پہنچا اور یہ سب عمل بے کار گیا اور موجودہ عمل کے بارے میں بھی ڈاکٹر فاروق نے اسی طرح کے خدشات ظاہر کئے۔ اس دوران وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ مودی کے دور حکومت میں ہی حل ہوگا۔ جہاں تک موجودہ مرکزی حکومت کا تعلق ہے تو یہ بات بلاروک ٹوک کہی جاسکتی ہے کہ مودی کو لوگوں کابھرپورمینڈیٹ ملا ہے اور اگر وہ چاہیں تو مسئلہ کشمیر حل کرسکتے ہیں لیکن وہ کس طرح یہ مسئلہ حل کرینگے ؟مرکزی حکومت کی نظروں میں مسئلے کا کون سا حل سب سے زیادہ قابل قبول ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں