امریکہ میں چرچ میں فائرنگ، 26افراد ہلاک

ٹیکساس/رائٹر/ ایک مسلح شخص نے جنوب مشرقی امریکہ کے ایک چھوٹے شہر کے ایک چرچ میں اندھا دھند فائرنگ کی جس میں کم از کم 26لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ کئی افراد زخمی ہو گئے ۔ یہ حملہ سان انتونیو کے مشرق میں 65کلومیٹر دور سدرلینڈ اسپرنگس کے ولسن کاؤنٹی کے علاقہ میں فرسٹ بیپٹسٹ چرچ میں ہوا۔مقامی میڈیا نے عینی شاہدین کے حوالہ سے بتایا ہے کہ یہ واردات مقامی وقت کے مطابق صبح 11.30بجے اجتماعی دعاکے دوران ہوا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ اس وقت چرچ میں کتنے لوگ موے جود تھے ۔ گوادے لوپ کاؤنٹی شیرف کے پولیس افسر رابرٹ مرفی نے بتایا کہ چرچ سے کئی میل کے فاصلہ پر ایک سلح شخص کو مار گرایا گیا۔ ولسن کاؤنٹی کے شیرف جوي ٹیکٹ نے سی این این چینل کو بتایا کہ اس حملے میں کم از کم 20افراد ہلاک ہو گئے ۔ وہیں ٹیکساس کے لیفٹیننٹ گورنر ڈین پیٹرک نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اس حملے میں کم از کم 26افراد ہلاک اور 30زخمی ہوئے ہیں۔اس واردات کو انجام دینے والے واحد مشتبہ نے چرچ میں گھستے ہی رائفل سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ ادھر، 12دنوں کے ایشیا دورے پر گئے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پوری صورت حال پر نظر بنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا-’خدا سدرلینڈ اسپرنگس، ٹیکساس کے لوگوں کا ساتھ دے ۔ وفاقی تحقیقاتی بیورو ﴿ایف بی آئی﴾ اور پولیس موقع پر ہے‘۔ قانون نافذ کرنے والے حکام نے بتایا کہ متاثرین کی عمر پانچ سے 72سال کے درمیان ہے ۔ٹیکساس پبلک سیفٹی کے سیکشن کے ریجنل ڈائرکٹر فری مین مارٹن نے کہا کہ فائرنگ کے بعد جب مشتبہ پنی گاڑی سے فرار ہونے لگا تو ایک مقامی شخص نے رائفل سے اس پر گولی چلائی جس میں وہ مارا گیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں