محکمہ بجلی اورواٹرورکس کے عوام سے وعدے,

,

 عوامی سطح پر کی جانے والی ان شکائتوں جن میں بتایا گیا کہ وادی میں پاور کٹوتی شیڈول پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے اور پانی کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے کا وزیراعلیٰ نے سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکا م کو ہدایت دی کہ پاور کی فراہمی مقررہ شیڈول کے تحت یقینی بنانے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جائیں اور اس کے علاوہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کیلئے ایمر جنسی بنیادوں پر کاروائی کی جائے۔ جموں میں دربار موو کے بعد سیکریٹریٹ کھلنے سے ایک دن قبل اتوار کو وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں افسروں کو ہدایت دی کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات بہم پہنچانے کیلئے ہرممکن اقدامات کو بروئے کار لائیں ورنہ امکانی کاروائی کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیاکہ محکمہ پی ڈی ڈی کی طرف سے پاور کٹوتی کا جو شیڈول جاری کیاگیا ہے اس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہورہا ہے جس سے خاص طور پر وہ طلبہ زبردست ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہورہے ہیں جن کے امتحانات سر پر ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے وادی کے ہر علاقے سے موصولہ شکایتوں کی بنا پر اس طرح کے احکامات تو جاری کئے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان احکامات پر کس حد تک عمل درآمد ہورہا ہے۔ وزیراعلیٰ کومیٹنگ میں بتایا گیاکہ اس وقت 200قابل استعمال ٹرانسفارمروں کاایک بینک قایم کیاگیا جن میں اور اضافہ کیاجارہا ہے تاکہ جہاں کہیں پر ٹرانسفارمر خراب ہوجائے، ان میں نقص پیدا ہوجائے تو فوری طور اس کے بدلے دوسرا قابل استعمال ٹرانسفارمر نصب کیاجائیگا تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچ سکے۔ محکمے کے انجینئروںکو ہدایت دی گئی کہ کم از کم نماز فجر اور شام کے وقت بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے اور طلبہ کو بھی مشکل پیش نہ آسکے۔ اس میٹنگ میں محکمہ پی ایچ ای کے انجینئراور افسر بھی شامل تھے انہوں نے پانی کی فراہمی میں خلل کیلئے خشک موسم کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ اسی کی بنائ پرپانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ میٹنگ میں ان کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان علاقوں میں موثر طریقے پر ٹینکر سروس شروع کریں جہاں پانی کی قلت محسوس کی جارہی ہو اس کے علاوہ واٹر پمپ چالو کرنے اور کنوئیں کھودنے کی بھی ان کو ہدایت دی گئی افسروں نے میٹنگ میں کہا کہ اس وقت ایک ہزار سے زیادہ پینے کے پانی کی سکیمیں متاثر ہوئی ہیں جن سے پانی کی فراہمی بند ہوچکی ہے کیونکہ ندی نالوں میں پانی کی سطح برابر نیچے گرتی جارہی ہے جس کی مثال انہوں نے جہلم سے دی۔ بہر حال دربار جموں میں کھل گیا اور اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں محکمے ان وعدوں پر عمل درآمد کرتے ہیں یا نہیں جن کااظہار ان محکموں کے افسروں نے وزیر اعلیٰ کے سامنے کیا ہے ۔ اسوقت خاص طورپر بجلی کی حد سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس مہینے اور اگلے مہینے کے وسط تک دو اہم کلاسوں میٹرک اور بارہویں کے امتحانات جاری ہیں اوران میں ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ اور طالبات قسمت آزمائی کررہی ہیں دونوں امتحانوں میںکامیاب طلبہ کو زندگی کے اہم پڑائو میں قدم رکھنا ہے جہاں ان کی زندگی سنور سکتی ہے۔ اسلئے بجلی کی فراہمی میں خلل کو عام لوگ نا قابل برداشت قرار دے رہے ہیں ۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں