رابطہ کار کی تعیناتی ملک کے عوام کو بیوقوف اورعالمی برادری کو گمراہ کرنے کے مترادف :قرہ

سرینگر/اے پی آئی /مرکزی حکومت کی جانب سے سابق بیروکریٹ کو رابطہ کار کرنے کی کارروائی کو بے معنیٰ اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ اگر رابطہ کار امن بحال کرنے کیلئے تعینات کیا گیا ہے تو اسے پولیس افسروں اور مین سٹریم پارٹیوں کے لیڈروں کے ساتھ ہم کلام ہونا چاہیے اگر وہ کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے تعینات کئے گئے ہیں تو اس کیلئے ضروری ہے کہ مزاحمتی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے اور جیلوں میں بند پڑے لیڈروں کی رہائی عمل میں لائی جائے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ طاریق حمید قرہ نے مرکزی حکومت کی جانب سے نامزد کئے گئے رابطہ کار دنیشور شرما کی تعیناتی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ مرکزی حکومت نے کن اغراض و مقاصد کیلئے سابق بیروکریٹ کو رابطہ کار کی حیثیت سے نامز دکیا ہے ۔ کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ سٹیک ہولڈروں کی نشاندہی کرے کہ وہ کون ہیں اور مذاکرات /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 کار کو کس سے بات چیت کرنی ہے ۔ ایک طرف وزیر داخلہ اعلان پر اعلان کررہے ہیں کہ مذاکرات کار آزاد ہے وہ جس سے چاہے بات کر سکتا ہے اور دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک جونیئر وزیر یہ بیان دے رہے ہیں کہ کشمیر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ،بات چیت کا کوئی مطلب نہیں ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان ایک ٹی وی چینل کی جانب سے شروع کئے گئے بحث میں شرکت کے دوران یہ کہنے سے بھی نہیں چونکے کہ مذاکرات کار کی تعیناتی صرف سٹیک ہولڈروں کے ساتھ بات کرنے کیلئے ہے ان سے نہیں جو آئین ہند نہیں مانتے ہیں وہ سٹیک ہولڈر نہیں ہے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں خود تضاد ہے ۔ا ٓر ایس ایس اسے جو کچھ کہلوانا چاہتی ہے وہ اسے کہنا بھی ہے اور کرنا بھی ہے ۔ سینئر لیڈر نے کہا کہ بات چیت کیلئے ماحول کو سازگار بنانا ہو گا ، مزاحمتی قیادت کو اعتماد میں لینا ہو گا ، جیلوں میں بند پڑے لیڈروں کی رہائی عمل میں لانی ہو گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں