ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی ۔۔۔ایک سنگین مسئلہ

وادی کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی بری طرح محسوس کی جارہی ہے جس پر عوامی حلقوں میںفکر وتشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہ بات باعث تعجب ہے کہ وادی بھر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی سے مریضوںکو گوناگوں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت کے نوٹس میں بار بار یہ معاملہ لانے کے باوجود ابھی تک اس جانب کوئی توجہ کیوں نہیں دی جارہی ہے۔ کوئی بھی ہسپتال، ہیلتھ سنٹر یا ڈسپنسری ایسی نہیںجہاں مریضوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی نہیں جاتی ہیں اور گھنٹے دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ہی باری آتی ہے۔ اس دوران ان مریضوں کی حالت کافی تشویشناک بن جاتی ہے جو درد میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یا ایسی بھی حاملہ خواتین قطاروں میں نظر آتی ہیں جن کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ڈاکٹروں کی کمی کے وجہ سے ایسے نازک بیماروں کو ہر صورت میں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھا رایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریض کی حالت غیر ہوجاتی ہے یا ان کی موت بھی واقعہ ہوجاتی ہے۔ قصور ڈاکٹروں کا نہیں بلکہ قصور سسٹم کا ہے۔ ہمارے یہاں گورنمنٹ میڈیکل کالج بھی ہے۔ اس کے علاوہ سکمز کا بھی اپنا میڈیکل کالج ہے اسی طرح سرکاری ڈینٹل کالج بھی ہے اور وہ میڈیکل کالج بھی ہے جہاں بی یو ایم ایس کیا جاتا ہے۔ ہر سال ان کالجوں سے کئی سو لڑکے اور لڑکیاں ڈاکٹری ڈگریاںلے کر فارغ ہوتے ہیں لیکن وہ کہاں جاتے ہیں یہ ایک ایساسوال ہے جس کا جواب صرف ریاستی حکومت ہی دے سکتی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ڈاکٹروں کی اسامیاں خالی نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی ہے اور جس کا اعتراف سرکار کی طرف سے بھی کیا جارہا ہے تو پھر ڈاکٹروں کونوکریاں فراہم کیوں نہیں کی جاتی ہیں۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس وقت محکمہ صحت میں تعینات سینکڑوں ڈاکٹر بیرون ملک نوکریاں کرتے ہیں لیکن یہاں ان کے پوسٹ خالی ہیں جن کو پر نہیں کیا جارہا ہے ان ڈاکٹروں کو سبکدوش کرکے ان کے بدلے یہاں ان ڈاکٹروں کو تعینات کیوں نہیں کیا جارہا ہے جو اس وقت بیکار ہیں۔ یہ شہر کا حال ہے جہاں ہسپتال ہیں لیکن ڈاکٹروں کی ان میں کمی ہے لیکن اس کے برعکس بہت سے دور دراز علاقے ایسے ہیں جہاں نہ ہسپتال ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر۔ ان علاقوں میں لوگ نیم حکیموں کے پاس جانے پر مجبور ہوتے ہیں جو ان کی صحت کو اور زیادہ بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ یا پرائیویٹ کلنکوں پر بھی لوگ جانے پر مجبور ہوجاتے ہیںجہاں ان سے بھاری فیس لی جاتی ہے۔ ایک طرف سرکار ایک ڈاکٹر کو تربیت دینے پر لاکھوں کی رقم صرف کرتی ہے اور جب وہ ڈاکٹر بن جاتا ہے تو جھٹ سے عرب یا مغربی علاقوں کی طرف رخ کرتا ہے اگر اس پر غور کیاجائے گا تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا ہے بلکہ جب ان کو یہاں نوکریاں نہیں ملتی ہیں تو وہ مجبوراًدوسرے ملکوںکا رخ کرتے ہیں اسلئے ریاستی حکومت کو اس بارے میں ایک ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہئے جہاں ڈاکٹروں کیلئے نوکریوں کا حصول آسان ہو۔ تاکہ یہاں ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی پر قابو پایا جاسکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں