دربارموئوکے بعد عوامی مسائل میں اضافہ

 6نومبر سوموارکو جموں میںدربار کھل رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسی صوبے میں سرکاری سرگرمیاں شروع ہونگی۔ اس سے قبل ان ہی کالموں میں لکھا جاچکا ہے کہ دربار موئو وقت اور پیسے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بہر حال حکومت کی طرف سے اس اہم مطالبے کو ہر بار نظرا نداز کیاجاتا رہا ہے اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے یہ مطالبہ آج نہیں بلکہ دہائیوں سے لوگ کررہے ہیں کہ اس فضول عمل کو مختصر کیاجائے لیکن ایسا نہیں کیاجارہا ہے۔ اب اس سال بھی دربار موئو کے بعد سوموار کو سرکاری دفاتر جموں میں کھل رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہاں مسایل کی بھر مار شروع ہوجاتی ہے اور سب سے زیادہ مسئلہ بجلی اور پانی کا ہوتا ہے جس کی فراہمی میں خلل کی بنائ پرلوگوں کو مشکلات و مسایل کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ اگرچہ یہ بات صحیح ہے کہ وادی کے ندی نالوں میں پانی کی سطح ہر گذرتے دن کم ہوتی جارہی ہے جس سے پانی اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے لیکن اگر بجلی کی فراہمی کیلئے شیڈول کا اعلان کیاگیا ہے لیکن اس پر عمل درآمد میں گڑبڑ کی جاتی ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ تکلیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اس وقت دسویں اور بارہویں کے طلبہ کیلئے امتحانات جاری ہیں اور پاور میں مسلسل خلل سے ان کو ہی سب سے زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔ یہ طلبہ بار بار احتجاج کرتے ہیں۔ اور اب اس سے لااینڈ آرڈر کی صورتحال بھی پیدا ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح پانی کی فراہمی بھی متاثر ہورہی ہے۔ سرما ئی ایام میں ہر بار ایسا ہی ہوتا ہے اسلئے متعلقہ حکام کو لازمی طور پرپیشگی اقدامات اٹھانے چاہئے تھے تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے۔ تھوڑی سی بارشیں اور برفباری سے سرینگر جموں شاہراہ بند ہوجاتی ہے جس سے ایک اور پریشان کن صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ دربار جموں منتقل ہونے اور سردیاں شروع ہونے کے ساتھ ہی انتظامیہ پر بھی جمود طاری ہوجاتا ہے اس طرح سرمائی ایام کشمیریوں کیلئے ہر طرح کے مصائیب و مشکلات لے کر آتے ہیں۔ ان مصائیب پر اسی حالت میں قابو پایا جاسکتا ہے جب سرکاری مشینری عوامی خدمت کیلئے چاک و چوبند ہوجائے۔ جوابدہی اور احتساب کے عمل کو لازمی بنایا جانا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر انتظامیہ میں شامل بعض افسر اور اہلکار زبردست غفلت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ بھی لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ ابھی تک سرکاری طور پراس بات کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ وادی میں سردیوں کے ایام میں کتنے وزیر یہاں رہینگے جبکہ گذشتہ برسوں میں وزرا کا یہاں باری باری آنا جانا لگا رہتاتھا لیکن اس بار ایسا نہیں ہورہا ہے اسلئے ریاستی حکومت کو وادی میں رہنے والوں کیلئے ایسا انتظام کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچ سکے۔ سردیاں بذات خود پریشانیاں لے کر آتی ہیں اسلئے اس موسم میں ان میں دوگنا اضافہ ہوتا ہے۔ ان پریشانیوں کو دور کرنا حکومت کا کام ہے اور لوگوں کو یہ امید ہے کہ اس بار ریاستی حکومت وادی کے لوگوں کو راحت پہنچانے میں کسی قسم کی تٰغافل شعار ی سے کام نہیں لے گی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں