آدھار کو چیلنج کرنے والی عرضیاں آئینی بنچ کے سپرد

نئی دہلی/یو این آئی/ سپریم کورٹ نے آدھار کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت کیلئے نومبر کے آخری ہفتے میں پانچ رکنی آئینی بنچ تشکیل دینے کا کل فیصلہ کیا ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے یہ فیصلہ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کی اس دلیل کے بعد دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آدھار کے سلسلے میں جھوٹی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ سی بی ایس ای کی دسویں اور بارہویں کلاس کا امتحان دینے کیلئے آدھار کارڈ کو لازمی کردیا گیا ہے ۔ مہاراشٹر حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل سی اے سندرم نے بھی مرکزی حکومت کی حمایت کی۔ مسٹر وینو گوپال نے کہا کہ اگر بنچ کو مناسب لگے تو وہ اس معاملے کو پانچ رکنی آئینی بنچ کو منتقل کرسکتی ہے ۔ وہ آئینی بنچ کے سامنے بھی اس مسئلے پر جرح کرنے کیلئے تیار ہیں۔خیال رہے کہ آدھار کو پرائیوسی کا حق قرار دینے والی نو رکنی آئینی بنچ نے آدھار سے متعلق دیگر معاملات کی سماعت تین رکنی بنچ کو کرنے کیلئے کہا تھا۔ اس دوران ایک دیگر بنچ نے آدھار موبائل لنکنگ معاملے میں آج مغربی بنگال حکومت کو سخت سرزنش کی ۔ جب کہ راگھو تنکھا کی عرضی پر اسی بنچ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکے چار ہفتے کے اندر جواب دینے کا حکم دیا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں