نیشنل کانفرنس اور مطالبہ اٹانومی

نیشنل کانفرنس کے ڈیلی گیٹ سیشن میں اٹانومی کے مطالبے کو دہرایا گیا اور اسے کشمیر مسلے کے بہترین حل سے تعبیر کیاگیا۔ سولہ برس کے طویل وقفے کے بعد نیشنل کانفرنس نے اتوار 29اکتوبر کو شیر کشمیر کرکٹ سٹیڈیم میں ڈیلی گیٹ جلسہ منعقد کرکے اپنی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ اس جلسے میں ہزاروں ڈیلی گیٹ اور دوسرے لوگ شامل ہوئے جنہوں نے اس پارٹی کے ساتھ اپنی بھر پور وابستگی کا اظہار کیا اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے جب اٹانومی کا مطالبہ دہرایا گیا تو انہوں نے اس کے حق میں نعرے بلند کئے اور کہا کہ وہ اٹانومی کے مطالبے کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ اس سے قبل ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اٹانومی پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اٹانومی کو کشمیر مسلے کا بہترین حل قرار دیا جاسکتا ہے اور بقول ان کے اگر کشمیری عوام کو اٹانومی دی جائے گی تو اس کے بعد اس حوالے سے اور کوئی مطالبہ نہیں رہے گا۔ انہوں نے سابق مرکزی وزیر داخلہ پی چدم بھرم کے اس مطالبے کو حق بجانب قرار دیا جس میں انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی طرف سے آزادی کا جو مطالبہ کیاجارہا ہے وہ دراصل اٹانومی ہی ہے جو ان کو دینی چاہئے۔ ڈاکٹر فاروق نے اس کیساتھ ہی کہا کہ دراصل کانگریس ہی نے مطالبہ اٹانومی کو مسترد کردیا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب نیشنل کانفرنس نے اس بارے میں قرار داد پاس کی تو مرکز میں بر سر اقتدار کانگریس نے اسے مسترد کردیا۔ ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی چدم بھرم کے اس مطالبے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کا یہ مطالبہ دراصل بقول ان کے دیش نے غداری کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس وہی بولی بولتی ہے جو کشمیر میں علیحدگی پسند بولتے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے جلسے میں عمر عبداللہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا جہاں ایک طرف مطالبہ اٹانومی کو نیشنل کانفرنس کی سیاسی اساس قراردیا وہیں انہوں نے سابق آئی بی چیف دنیشور شرما کی بحیثیت مذاکرات کار تقرری پر حیرانگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ خود بھی حیران ہونگے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سے دینشور شرما کی بحیثیت مذاکرات کار تقرری عمل میں لائی گئی تب سے نئی دہلی میں بیان بازیوںکا سلسلہ اس زور و شور سے شروع ہو ا کہ وہ پریشان ہوگئے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ غرض نیشنل کانفرنس کا جو ڈیلی گیٹ سیشن منعقد ہو ا اس میں صرف مسئلہ اٹانومی اٹھایا گیا جبکہ نیشنل کانفرنس نے مذاکراتی عمل کو بھی مسترد کردیا۔علیحدگی پسند اس سے پہلے ہی اٹانومی اور مذاکراتی عمل کو مسترد کرچکے ہیں۔ آنے والا وقت اپنے دامن میںکیاکچھ لے کر آرہا ہے یہ وقت ہی بتائے گا۔ اتوار کی شام دینیشور شرما ریاستی گورنر کے ساتھ ملاقات کرچکے ہیں اور انہوں نے کشمیر میں ان لوگوں کے بارے میں گورنر سے معلومات حاصل کرلی ہیں جن کے ساتھ وہ ملاقات کرنے والے ہیں۔ وہ اسی ہفتے یہاں آرہے ہیں جس کے بعد ہی مذاکرت سے متعلق صورتحال واضح ہوجائے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں