آرٹیکل 35-Aپر کیس کی سماعت تین ماہ کیلئے موخر

اٹارنی جنرل کے وینو گوپال کی طرف سے چھ ماہ کیلئے کیس کی سماعت موخر کرنے کی اپیل عدالت اعظمیٰ نے مسترد کردی - مرکزی سرکار کی اس دلیل کہ آرٹیکل 35-Aکشمیر سے جڑا ایک حساس معاملہ ہے جس کیخلاف کوئی فیصلہ سامنے آنے پر ریاست میں احتجاج ہوسکتا ہے سپریم کورٹ نے سماعت موخر کردی

نئی دہلی/ ’’آرٹیکل35Aتنازعہ 3ماہ کیلئے ٹل گیا‘‘کیونکہ سپریم کورٹ آف انڈیاکے سہ رکنی بینچ نے’’مرکزی سرکارکی استدعاپرنازک وحساس کیس کی سماعت12ہفتوں کیلئے موخر‘‘کردی۔اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کی جانب سے کشمیرکیلئے مذاکرات کارکی نامزدگی اورمذاکراتی عمل شروع کئے جانے کاحوالہ دئیے جانے کے بعدعدالت عظمیٰ نے مرکزی سرکارکو35-Aکیخلاف دائرعرضیوں کاجواب داخل کرنے کیلئے12ہفتے کی مہلت یاوقت دے دیا،اورتب تک اس حساس نوعیت کے کیس کی سماعت کوموخرکیاگیا۔ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل جہانگیراقبال گنائی نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ کیس کی سماعت سہ پہرکے وقت شروع ہوتے ہی اٹارنی جنرل آف انڈیاکے کے وینوگوپال نے مرکزی سرکارکی جانب سے چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے تین رُکنی بینچ سے استدعاکی کہ 35Aسے جڑے کیس کی سماعت کو6ماہ کیلئے موخرکیا جائے ۔ایڈوکیٹ گنائی کے مطابق جب سپریم کورٹ کاخصوصی بینچ اس پرراضی نہ ہواتواٹارنی جنرل نے کشمیرکیلئے مذاکرات کارکی نامزدگی کاحوالہ دیتے ہوئے کیس کی سماعت کچھ ماہ کیلئے روک دینے کی اپیل کی تاہم عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بینچ نے دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضیوں کی بنیادپرقائم کیس کی سماعت 12ہفتوں کیلئے موخرکردینے کافیصلہ صادرکردیا، جموں وکشمیرکے پشتنی اورمستقل باشندوں کوحاصل خصوصی آئینی حقوق سے جڑے آئین ہندکی دفعہ 35-A کیخلاف کم سے کم چارعرضیوں کی بنیادپرقائم کیس کی اہم ترین سماعت سوموارکوسہ پہرتقریباً4بجے سپریم کورٹ آف انڈیامیں چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے خصوصی بینچ کے سامنے شروع ہوئی تواٹارنی جنرل آف انڈیاکے کے وینوگوپال نے عدالت عظمیٰ کے خصوصی بینچ کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ مرکزی سرکارکی جانب سے جموں وکشمیرکیلئے مذاکرات کارکی نامزدگی عمل میں لائی گئی ہے ،اورسپریم کورٹ میں35Aمعاملے کی سماعت جاری رہنے کی صورت میں مذاکرات کے عمل کونقصان پہنچ سکتاہے ۔انہوں نے عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بینچ کے سامنے اسبات کی استدعاکی کہ آرٹیکل35-Aسے جڑے کیس کی سماعت کم سے کم6ماہ کیلئے موخرکردی جائے تاکہ بقول اٹارنی جنرل مذاکراتی عمل بغیرکسی رکائوٹ یاخلل کے آگے بڑھ سکے ۔معلوم ہواکہ 35Aکادفاع کرنے کیلئے ریاستی سرکارکی جانب سے سماعت کے وقت سپریم کورٹ میں ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل جہانگیراقبال گنائی کے علاوہ چارسینئرقانون داں ایڈوکیٹ فالی ایس نارائین،راکیش دیویدی ،کے وی وشواناتھن/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 اورایڈوکیٹ شیکھرنافڈے بھی موجودتھے ۔ اٹارنی جنرل آف انڈیاکے کے وینوگوپال نے عدالت عظمیٰ کوبتایاکہ دفعہ35Aجموں وکشمیرسے جڑاایک ایساحساس معاملہ ہے،کہ اگراسکے بارے میں کوئی فیصلہ سامنے آتاہے تواس کیخلاف آوازاُٹھ سکتی ہے ۔انہوں نے چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے خصوصی بینچ کوبتایاکہ 35Aتازعے یاکیس کی آڑمیں حالات خراب کئے جاسکتے ہیں ،اوراسکے نتیجے میں مذاکرات کارکامش جموں وکشمیرمتاثرہوسکتاہے ۔اٹارنی جنرل نے بتایاکہ اس کیس کی وجہ مذاکراتی عمل اثراندازہوسکتاہے ،اسلئے مرکزی سرکارکودائرپیٹشن کاجواب دینے کیلئے کم سے کم 6ماہ کاوقت دیاجائے ۔ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل جہانگیراقبال گنائی نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے نئی دہلی سے بتایاکہ کیس کی سماعت سہ پہرکے وقت شروع ہوتے ہی اٹارنی جنرل آف انڈیاکے کے وینوگوپال نے مرکزی سرکارکی جانب سے چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے تین رُکنی بینچ سے استدعاکی کہ 35Aسے جڑے کیس کی سماعت کو4ماہ کیلئے موخرکردیاجائے ۔اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ سے یہ استدعاکی کہ 35اے کیخلاف دائرپیٹشن یاپیٹشنوں کاجواب داخل کرنے کیلئے مرکزی حکومت کوچھ ماہ کاوقت دیاجائے۔ایڈوکیٹ گنائی کے مطابق جب سپریم کورٹ کاخصوصی بینچ اس پرراضی نہ ہواتواٹارنی جنرل نے کشمیرکیلئے مذاکرات کارکی نامزدگی کاحوالہ دیتے ہوئے کیس کی سماعت کچھ ماہ کیلئے روک دینے کی اپیل کی تاہم عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بینچ نے دفعہ35Aکیخلاف دائرعرضیوں کی بنیادپرقائم کیس کی سماعت 12ہفتوں کیلئے موخرکردینے کافیصلہ صادرکردیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ عدالت عظمیٰ کے تین رکنی خصوصی بینچ نے مرکزی سرکارکودائرعرضیوں یاپیٹشن کاجواب داخل کرنے کیلئے 12ہفتے کی مہلت یاوقت دیا،اورتب تک 35-Aکیخلاف دائرعرضیوں کی سماعت کوموخرکردیاگیا۔اُدھرکے این ایس کومعلوم ہواکہ جس وقت عدالت عظمیٰ میں 35اے معاملے کی سماعت شروع ہوئی توعدالت ھٰذاکے خصوصی ہال میں ریاستی سرکارکے قانونی صلاح کار،ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل ،کشمیرہائی کورٹ بارایسوسی ایشن سے وابستہ کئی سینئرقانون دا ں ،عرض دہندگان ،سیول سوسائٹی سے وابستہ مظفرشاہ ،اورسپریم کورٹ کی جانب سے اس کیس میں بطورپرائیویٹ پارٹی شامل کئے گئے سابق ممبرپارلیمنٹ طارق حمیدقرہ بھی موجودتھے ۔خیال رہے آرٹیکل 35-Aکے تحت جموں وکشمیرکے پشنتی اورمستقل باشندوں کوخصوصی حقو ق حاصل ہیں جبکہ ریاستی اسمبلی کویہ اختیاردیاگیاہے کہ وہ ریاست کی حدود میں رہنے والے لوگوں کے پشتنی یامستقل رہائشی ہونے کاتعین کرسکتی ہے ۔آئینی وقانونی ماہرین کامانناہے کہ اگرصدارتی ریفرنس کے ذریعے لاگواس اہم دفعہ کوختم کیاجاتاہے توبیرون ریاستی باشندے بھی جموں وکشمیرمیں اسٹیٹ سبجیکٹ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں زمین جائیدادخریدنے کاحق پاسکتے ہیں۔کہاجاتاہے کہ اصل میں اسی نوعیت کاایک قانون ڈوگرہ راج میں 1927میں اسوقت لاگوکیاگیاتھاجب پنجاب اوردیگرعلاقوں کے لوگ جموں وکشمیر آکریہاں مستقل طورپرسکونت اختیارکرنے لگے اورایسے ہی غیرریاستیوں کی یہاں آمداورپھریہاں مستقل سکونت کوروکنے کیلئے ڈوگرہ مہاراج نے خصوصی آئینی بندش لاگوکردی،اوراسی آئینی روایت کوبرقراررکھنے کیلئے بھارت کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہرئو کی سفارش پراسوقت کے صدرہندڈاکٹر راجندرپرشادنے سال1953-54 میں آرٹیکل35-Aکوجموں وکشمیرمیں لاگوکئے جانے سے متعلق ایک صدارتی ریفرنس یاآرڈرجاری کردیا۔آئینی اورقانو نی ماہرین کامانناہے کہ آئین ہندکی دفعہ370کی طرح ہی آرٹیکل35-Aبھی اہمیت رکھتاہے کیونکہ یہ دونوں آئینی تحفظات ہی جموں وکشمیراوریہاں کے پشتنی ومستقل باشندوں کوانڈین یونین میں خصوصی اورمنفرددرجہ دلاتے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں