مذاکراتی عمل کو سنجیدہ بنایاجائے

 قارئین کرام کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ مرکز نے گذشتہ دنوں کشمیر میں جامع مذاکراتی عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا تقریباًتقریباًہر مکتب فکر نے خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ کشمیر میں حالات کو سدھارنے کیلئے بات چیت کا عمل لازمی ہے۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بات چیت کس سے کی جائے اور کس کے ساتھ نہیں یہ اب بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ کیونکہ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق مرکز کی طرف سے متعلقین کی نشاندہی میں اب بھی لیت و لعل کیا جارہا ہے۔ متعلقین میں علیحدگی پسند اور عسکریت پسند دونوں آتے ہیں تو کیا نامزد مذاکرات کار ان سے بات چیت کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔اگرچہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس بات کا اعلان کیا کہ ہے کہ دنیشور شرما کو اس بات کی آزادی دی گئی ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کا از خود فیصلہ کرسکتے ہیں لیکن دینیشور شرما اس بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہہ رہے ہیں کہ بحیثیت مذاکرات کار وہ کن کن کے ساتھ بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر انہیں اس بات کا اختیار دیاگیا ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی بات چیت کرسکتے ہیں تو اس بارے میں واضح طور پر وہ کیوں کچھ نہیں کہتے ہیں۔ بات چیت کے عمل پر ایک طرف کشمیر ی خوش نظر آرہے تھے لیکن دوسری طرف ابھی بھی سسپنس برقرار ہے۔ ادھر پاکستان نے مرکز کی طرف سے بات چیت کے عمل کو شروع کرنے کے اعلان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حریت کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی تب تک یہ عمل سود مند ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔ مین سٹریم لیڈروں کیساتھ بات چیت کرنے سے کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ ان کا نظریہ ان لوگوں سے مختلف ہے جو علیحدگی پسند خیمے میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور غلام نبی آزاد نے تو ببانگ دہل اس بات کا اعلان کیا کہ بات چیت شروع کرنے کا اعلان وقت ضایع کرنے کے مترادف ہے۔ آزاد نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کشمیر میں قتل و غارت کے بعد مرکز کو اب یاد آیا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جبکہ ڈاکٹر فاروق کا کہنا ہے کہ اب تک جن لوگوں نے کشمیر پر اپنی آرا اور تجاویز تحریری طور پر مرکز کو پیش کیں تو سب سے پہلے ان کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے ان پر بحث کی جانی چاہئے اس کے بعد ہی نئے مذاکرات کار کو بات چیت شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس وقت ریاست میں حالات انتہائی پیچیدہ ہیں اور اس دوران بات چیت کاعمل اگر دیانتداری اور لگن کیساتھ شروع کیاجائے تو اس سے کشمیر میں قیام امن کیلئے راہیں ہموار کی جاسکتی ہیں۔ اس کے بعد دوسرے مسائل پر مذاکرات جاری رکھے جاسکتے ہیں بشرطیکہ ہر ایک سٹیک ہولڈر کے ساتھ بات چیت کی جائے اور اس دوران اس بات کا خاص رکھا جانا چاہئے کہ متعلقین کے جذبات و احساسات کو من عن مرکز کے نوٹس میں لایا جانا چاہئے تاکہ مرکزی حکومت کشمیر اور کشمیریوںکے خیالات اور احساسات سے واقف ہوسکے۔ اس بات چیت کو سنجیدہ عمل بنانے کیلئے نہ صرف مرکز بلکہ ریاستی حکومت کو بھی اپنارول ادا کرنا ہوگا تاکہ تازہ مذاکراتی عمل اس کا حال بھی ویسا نہ بن جائے جیسا اس سے قبل شروع کئے گئے مذاکرات کا ہوا تھا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں