پھر سے جامع مذاکراتی عمل کا اعلان

 مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے منگل 23اکتوبر کو نئی دہلی میںایک پریس کانفرنس کے دوران کشمیرمیں جامع مذاکراتی عمل شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس سال 15اگست کے موقعے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے قوم کے نام جو خطاب کیا تھا اس میںانہوں نے کشمیر کے بارے میں کہا تھا کہ گولی سے نہ گالی سے بات بنے گی کشمیریوں کو گلے لگانے سے اور اسی کے تناظر میں ہم نے کشمیر میں متعلقین کیساتھ جامع مذاکراتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کیلئے مرکز نے سابق آئی بی چیف دینیشور شرما کا تقرر عمل میں لایا ہے۔ اس موقعے پر اگرچہ وزیر داخلہ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا مذاکرات کار علیحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کرینگے یا نہیں البتہ اتنا ضرور کہا کہ مسڑ شرما کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ کسی کے ساتھ بھی بات چیت کرسکتے ہیں۔ جب پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ علیحدگی پسندوں جن میںحریت لیڈر بھی شامل ہیں کے ساتھ بات کرینگے تو وزیر داخلہ نے اس کا گول مول سا جواب دیا اور صرف اتنا کہا کہ دینشور شرما کسی کے ساتھ بھی بات چیت کرسکتے ہیں اور اس بارے میں وہ خود فیصلہ لے سکتے ہیں اور انہیںاس کیلئے مرکز سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مرکز کے اس اعلان کا کم و بیش ہرمکتب فکر نے اسی طرح خیر مقدم کیا جس طرح سال 2010میں کانگریس کی طرف سے نامزد کئے گئے تین مذاکرات کاروں جن میں رادھا کمار، دلیپ پڈگاونکر اور سابق انفارمیشن سیکریٹری ایم ایم انصاری شامل ہیں کی تقرری کا خیر مقدم کیاگیا تھا لیکن بعد میں مذاکرات کاروں کی رپورٹ کا کیا ہوا اس بارے میں سب کو معلوم ہے اور تو اور خود اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ پی چدم بھرم نے کہاتھا کہ تینوں مذاکرات کاروں کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ وزارت داخلہ کی کسی الماری میںدھول چاٹ رہی ہوگی۔ دلیپ پڈگائونکر نے بعد میں کہا کہ انہوں نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس کو کانگریس نے قابل مطالعہ تک نہیں سمجھا۔ اور اب مرکز میں این ڈی اے سرکار نے بالکل اسی طرز پر مذاکرات کار کی تقرری عمل میں لائی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسوقت مذاکرات کاروں کی تعداد تین تھی اوراب کی بار صرف ایک مذاکرات کار کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس عمل کو وقت ضایع کرنے کے مترادف قرار دیا اور کہا کہ اس سے قبل بھی اسی طرح مذاکرات کار مقرر کئے گئے لیکن انہوں نے جو رپورٹ پیش کئے ان کا کیا ہوا؟ طارق حمید قرہ نے اس عمل کا خیر مقدم کیا لیکن کہا کہ اگر آئی بی کے سابق افسر کے بجائے کسی سیاستدان کو نامزد کیاجاتا تو بقول ان کے بہتر رہتا۔ اسی طرح کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مذاکرات کار متعلقین کی وضاحت کریں۔ پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ بات چیت میں حریت کو ترجیح دی جائے۔ غرض ان سب رہنمائوں نے اس پر ردعمل ظاہر کیا لیکن ابھی بھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا مرکزی مذاکرات کار حریت کیساتھ بات کرینگے یا نہیں۔ اس کا انتظار کرنا ہوگا۔ دنیشور شرما اگلے ہفتے سے کشمیر کا دورہ کرنے والے ہیں اور اطلاعات کے مطابق باضابطہ مذاکراتی عمل شروع کرنے سے پہلے وہ گورنر، وزیر اعلیٰ اور فوج کے کئی افسروں کے ساتھ مل کر مجموعی صورتحال کے بارے میںجانکاری حاصل کرینگے اس کے بعد ہی وہ بات چیت شروع کرنے کا اعلان کرینگے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں