پولیس متحرک ہوجائے تو چوٹیاں کاٹنے والے پکڑے جاسکتے ہیں

اس سے قبل ان ہی کالموں میں اس بات کا بار بار تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ ریاستی پولیس ابھی تک چوٹیاں کاٹنے کے واقعات کے پیچھے محرکات کا سراغ نہیں لگا سکی ہے جس پر پولیس کی کارکردگی پر بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں ۔کل ہی ریاستی پولیس کے ایک اعلی افسر آئی جی پی کا ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو دیا گیا انٹرویومنظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے اس سارے معاملے کے لئے لوگوں کو ہی مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی ہے جبکہ حقایق کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔جہاں تک خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کا تعلق ہے تو اس سارے معاملے کو انسان اور انسانیت کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔اپنے گھر میں بیٹھی ماں بہن ،بیٹی بہو کے بال اچانک ایک غیر مرد کاٹتا ہے تو اس خاتون کی ذہنی کیفیت کیا ہوگی جس کیساتھ اس طرح کاواقعہ پیش آتا ہے ۔ایک کشمیری خاتون جو اپنے بہن بھائی بیٹے یا باپ کے سامنے سر پر ڈوپٹے کے بغیر نہیں بیٹھ سکتی اس کو ایک غیر مرد بالوں سے محروم کرتا ہے تو اس کی کیا حالت ہوگی اس کے گھروالوں پر کیا گذرتی ہوگی یہ سوچے سمجھے بغیر اگر اس کے بارے میں یہ کہا جاے گا کہ یہ ہسٹریا ہے فوبیا یا پراسرار معمہ تو وہ لوگ کیا کہیں گے جن کی ماں بہنوں بیٹیوں کو بالوں سے محروم کردیا گیا ہے ۔اور اگر اب خود پولیس کہے گی کہ ثبوت و شواہد نہ ملنے کے باعث ابھی تک کوئی بھی کیس قایم نہیں ہوسکا ہے تو عوامی حلقے اس سے کیسا محسوس کرینگے ۔کیوں پولیس ابھی تک اس سارے معاملے جس نے کشمیری عوام کا چین و سکون چھین لیاہے کا سراغ لگانے میں کیوں ناکام ہوگئی ہے جبکہ پولیس کے پاس ذرایع کی کمی نہیں ۔یہ دس بیس سال پہلے کا زمانہ نہیں کیونکہ اس وقت مقابلتاًذرایع کی کمی تھی لیکن آج ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی کی ہے کہ شرپسند عناصر کو پکڑنے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہئے تھی لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پولیس اسے شاید لااینڈ آرڈر کی نظر سے دیکھتی ہے ۔یہ ضرور ہے کہ کوئی واقعہ رونما ہونے کے بعد لااینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے لیکن اس کی بنیاد بھی یہی ہوتی ہے ۔یعنی جب کسی خاتون کی چوٹی کاٹی جاتی ہے تو لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے ہیں بہر حال پولیس کو اس سارے معاملے کی تہہ تک جانا چاہئے ۔اس بارے میں ریاستی پولیس کے آئی جی پی کا یہ کہنا کہ تحقیقات کا دائیرہ بیرون ریاست تک بڑھادیا گیا ہے تاکہ اس حوالے سے حقایق کا پتہ چلایا جاسکے درست قدم قرار دیا جاسکتا ہے ۔اگر اس سارے معاملے میں پولیس کا رول اچھا رہتا تو لوگ بھی پولیس کے ساتھ تعاون کرتے پھر بھی جن لوگوں کو مشتبہ حالت میں پکڑا گیا ان کی مارپیٹ کے بعد انہیں پھر بھی پولیس کے ہی حوالے کیاگیا ۔اب لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ پولیس کب تک اور کس طرح اس سارے معاملے میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے سخت سے سخت سزا دیگی تاکہ لوگوں کو اس بات کا اطمینان ہوسکے کہ واقعی پولیس نے جانفشانی سے کام لے کر گھناونی حرکتوں میں ملوث افراد کو آخر کار پکڑ ہی لیااور لوگوں کو امن و چین سے رہنے کا موقعہ فراہم کیا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں