قیام امن کیلئے بات چیت کی پیشکش

    بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک مرکزی رہنما رام مادھو نے کہا کہ ہے کہ ریاست جموں کشمیر میں پائیدار امن کے لئے مرکز کشمیر میں کسی کے بھی ساتھ غیر مشروط بات چیت کیلئے تیار ہے اور چاہتا ہے کہ اس ریاست میں دایمی امن قایم ہو اور لوگ خوشحال زندگی بسر کرسکیں ۔ رام مادھو کی آمد سے پہلے ہی بھاجپا کے اعلی لیڈروں پر مشتمل ایک وفد یہاں آیا تھا ۔اس سلسلے میں یہ افواہیں اڑائی جارہی تھیں کہ بھاجپا کی مرکزی قیادت بعض ریاستی وزرا جن کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے کی کارکردگی سے خوش نہیں ہے اور وہ چاہتی ہے کہ ان کو وزارتی کونسل سے ہٹا کر ان کی جگہ ان چہروں کو لایا جائے جو اس پارٹی کی ساکھ کو نہ صرف برقرار رکھنے کے لئے اپنا بھر پور رول ادا کرنے کیلئے تیار ہونگے بلکہ و ہ اس قابل بھی ہونے چاہئیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ کشمیریوں کو پارٹی کا ہم پیالہ اور ہم نوالہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔اس کے ساتھ ہی یہ افواہیں بھی گشت کررہی تھیں کہ ریاستی کابینہ میں بھی پھیر بدل ہوگی لیکن رام مادھواور اسی پارٹی کے ایک اور رہنما اشوک کول نے ان اطلاعات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ نہ تو کابینہ میںپھیر بدل ہوگی اور نہ ہی پارٹی کیڈر میں کوئی تبدیلی لائی جاے گی ۔اس سلسلے میں نایب وزیراعلی ڈاکٹر نرمل سنگھ کی سرکاری رہایش گاہ پر اخباری نمایندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے رام مادھو نے کہا کہ بھاجپا ہر اس شخص ،اشخاص اور پارٹیوں بشمول علحیدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے جو مسایل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں یقین رکھتے ہوں ۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مرکز اس ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔اس سے قبل مرکزی وزیر داخلہ جو یہاں دو روزہ دورے پر آے تھے نے بھی بات چیت پر زور دیا اور کہا کہ مرکز کشمیر معاملے پر کسی بھی شخص اشخاص یا کسی بھی پارٹی لیڈر کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے اور اس کیلئے کوئی بھی پیشگی شرط نہیں ہوگی ۔دونوں رہنماوں رام مادھو اور راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست میں قیام امن کے لئے اپوزیشن کے رول کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے اسلئے موجودہ حالات میں اپوزیشن کا رول بنتا ہے اسلئے اپوزیشن کو آگے آناچاہئے ۔انہوں نے بحالی امن کو اپوزیشن کے تعاون کے ساتھ جوڑتے ہوے کہا کہ اپوزیشن کو موجودہ حالات میں مثبت رول ادا کرنا چاہئے ۔بار بار اورمتعدد مرتبہ اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ علحیدگی پسند جماعتوں نے اس بات کا اعلان کیا کہ وہ تمام مسایل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہتی ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اب جبکہ بھاجپا نے اس بارے میں اپنی پوزیشن واضح کی ہے تو پھر ان کااس آفر پر ردعمل کیا ہوگا یہ دیکھنا ہے ابھی باقی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں