سرینگر جموںشاہراہ پر اب گرمائی ایام میں بھی بند ہونے لگی

چند گھنٹے کی بارش نے سرینگر جموں شاہراہ کا حال بے حال کردیا اور اس شاہراہ کو دودن تک گاڑیوں کی آمد و رفت کیلئے بند کردیا گیا۔یہ موسم گرما میںسڑک کا حال ہے جب سرمائی ایام ہونگے تو سڑک پر کس طرح گاڑیوں کی آمد ورفت جاری رہ سکتی ہے؟کل دودنوں کے بعد سڑک یک طرفہ ٹریفک کیلئے کھول دی گئی اس کے باوجود سڑک پر سینکڑوں گاڑیاں درماندہ ہیں جن میں سوار لوگ مشکلات سے دوچار ہونگے۔ سرینگر جموں سڑک کو ہائی وے کا درجہ حاصل ہے لیکن اس کے رکھ رکھائو میں ایسی سست رفتاری برتی جارہی ہے کہ اس پر سفر کرنے والوں کواس بات کا یقین ہی نہیںہوتا ہے کہ آیا وہ وقت پر منزل مقصود پر پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ کیونکہ اب معمولی بارشوں سے بھی اس سڑک پر اس قدر پسیاں گرتی ہیں کہ سڑک پر گاڑیوں کی آوا جاہی کو روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے ۔ اگرچہ پہاڑی راستوں کا حال ایسا ہی ہوتا ہے لیکن گرمائی ایام میں بھی سڑک بند ہوتی ہے ایسا پہلی بار سناہے ۔ سڑک پر جو لوگ درماندہ ہیں انہوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ وہ تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ بیشتر لوگوں کے پاس کھانے پینے کیلئے پیسے نہیں ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو ہوٹلوں میںقیام نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ان کی جیبیں خالی ہیں۔ ہوٹل والے اور دکاندار بھی حالات کا ناجائیز فایدہ اٹھاتے ہیں اور کھانے پینے کی اشیا کے دام حد سے زیادہ وصول کرکے درماندہ مسافروں کولوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ہیں۔ رہی بات انتظامیہ کی تو درماندہ لوگوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ انتظامیہ کا کوئی بھی کارندہ نظر نہیں آیا اور دوچار پولیس والے ضرور یہاں تھے لیکن انہوں نے لوگوں کی کوئی مدد نہیں کی۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیاجاچکا ہے کہ اس سڑک کو شاہراہ کادرجہ حاصل ہے لیکن اس کے رکھ رکھائو کی طرف بھر پور توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ جس جگہ زیادہ پسیاں گرتی ہیں اس جگہ کچھ ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ پسیاں گرنے کاعمل مختصر ہوجائے آج کل جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاکر کیا نہیں ہوسکتا ہے لیکن جب ایسا نہیں کیاجاتا ہے تو سڑک پر آمدر ورفت کس طرح سال بھر جاری رکھی جاسکتی ہے ۔ سائینس اور ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کی ہے پھر کیاوجہ ہے کہ اس سڑک کے رکھ رکھائو سے جڑے انجینئراب بھی وہی دقیانوسی طریقے اپنائے ہوئے ہیں اور کوئی ان سے اس بارے میں باز پرس کیوں نہیں کرتا ہے۔ اس شاہراہ کو کشادہ کرنے کاکام اگرچہ جاری ہے لیکن اس سے بہتر یہ رہتا کہ پہلے ایسا انتظام کیاجاتا جس سے پسیاں گرنے کا عمل رک جاتا اور گاڑیاں سال بھر بغیر کسی رکاوٹ چل سکتیں۔ اس بارے میں وزیر اعلیٰ کو بیکن کے اعلی حکام کے نوٹس میں یہ بات لانی چاہئے اور ان پر یہ بات واضح کرنی چاہئے کہ وہ اس سڑک پر ایسا کام کریں تاکہ اسے سال بھر آمد ورفت کیلئے کھلا رکھا جاسکے۔ جب سرما میں برفباری ہوتی ہے تو اس وقت سڑک پر آمد ورفت بند ہوسکتی ہے لیکن اس وقت سڑک پر ٹریفک بند ہونا اچھنبے کی بات ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں