جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کا فیصلہ

مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ جی ایس ٹی کونسل نے تیس اشیا پر جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی جی ایس ٹی سیلز ریٹرن داخل کرنے کی آخری تاریخ 10اکتوبر تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔جب سے جی ایس ٹی لاگوکیا گیا تو یہاں گروورز اور ہینڈی کرافٹس کا کاروبار کرنے والوں میں تشویش بڑھ گئی ہے اور وہ اس بات کا برابر مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ہینڈی کرافٹس پر جی ایس ٹی کے نفاذ کا کوئی مطلب نہیں جبکہ گروورز کا کہنا ہے کہ جو بھی گروورز کوئی بھی چیز اُگا کر اس کا کاروبا رکرتے ہوں ان پر جی ایس ٹی لاگو نہیں ہوسکتا ہے۔ لیکن مرکزی حکومت نے ان کی ایک نہ سنی اور جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لایا گیا۔ دستکاری صنعت سے وابستہ تاجروں کاکہنا ہے کہ اس پرکسی بھی طور جی ایس ٹی لاگو نہیں کیاجاسکتا ہے کیونکہ جی ایس ٹی قوانین میں جن اشیا ئ کو اس سے مبرا قرار دیا ہے ان میں دستکاری صنعت بھی شامل ہے۔ لیکن اس کے باوجود دستکاری اشیا ئ پر جی ایس ٹی لاگو کیا گیا ہے ۔ اسی طرح اخروٹ اور زعفران اگانے والوں نے بھی اب تک متعدد مرتبہ متعلقہ حکام کے نوٹس میں یہ بات لائی کہ اخروٹ اور زعفران اگانے اور از خود ان کاکاربار کرنے والوں کو کسی بھی صورت میں جی ایس ٹی کے دائیرہ کار میں نہیں لایا جاسکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا اور ان دونوں اشیا ئ پر جی ایس ٹی لاگو کیا گیا۔ چنانچہ زعفران اور اخروٹ گروورس نے حال ہی میں ریاستی وزیر خزانہ کے ساتھ اس معاملے پر ملاقات کی جنہوں نے ان کو اس بات کا یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو مرکزی وزارت خزانہ کی نوٹس میں لائینگے اور ان کی یعنی ریاستی وزیر خزانہ کی یہ کوشش ہوگی کہ اخروٹ، ہینڈی کرافٹس اور زعفران کو اس ٹیکس کے دائیرے سے باہر رکھا جائے۔ اس کے بعد مرکزی وزیر خزانہ نے حیدر آباد میں جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا کہ کونسل نے تیس اشیا پر جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے البتہ پوری طرح ان تیس اشیا ئ کی نشاندہی نہیں کی گئی بلکہ صرف یہ بتایا گیا کہ حکومت کسی کو بھی پریشانی میں مبتلا نہیں کرسکتی ہے۔ جی ایس ٹی کے بارے میں ابھی تک پوری صورتحال واضح نہیں ہوسکی ہے لیکن جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے وہ اس طرح کے ٹیکس نظام سے خوش نہیں ہیں کیونکہ اس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ اس سے قبل قیمتیں اعتدال پر تھیں۔ عام لوگوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ نئے ٹیکس نظام سے کیا ہوگا اور پرانے ٹیکس نظام میں کیا خامیاں یا خوبیاں تھیں بلکہ صرف اتنا ہے کہ لوگ قیمتوں کو اعتدال پر دیکھنا چاہتے ہیں اور جب سے جی ایس ٹی لاگو ہوا ہے قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عام لوگ سخت پریشان ہوگئے ہیں کیونکہ محدود بجٹ کے تحت ان کیلئے زیادہ قیمتیں ادا کرنا مشکل ہورہا ہے ۔کشمیر کی ساٹھ سے ستر فی صد آبادی ہینڈی کرافٹس کا کاروبار کرتی ہے اور جب اس پر جی ایس ٹی لاگو کیا گیا تو یہ کشمیریوں پر ایک اور مصیبت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسلئے مرکزی وزارت خزانہ کو اس بارے میں فوری اقدامات کرنے چاہئیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں