نیوزی لینڈ کی مساجد میں قتل عام سے پوری دنیا میں دہشت پھیل گئی، ان واقعات کے پیچھے9/11کے بعد تیزی سے پھیلنے والا ’’اسلاموفوبیا‘‘ کارفرماہے:پاک و بھارت سمیت کئی ممالک کی مذمت

سرینگر/ نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ شہر میں دو مساجد میں نمازِ جمعہ کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے 49 افراد کی ہلاکت پر پوری دنیا میں دہشت پھیل گئی ہے جبکہ اکثر ممالک نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے سیکورٹی سخت کردی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہولناک واقعہ پر، جس میں 49 افراد ہلاک اور بہت سے شدید زخمی ہوئے۔ ان کی ہمدریاں نیوزی لینڈ کے عوام کے ساتھ ہیں اور امریکہ اس موقع پر نیوزی لینڈ کے ساتھ کھڑا ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا اور کئی یورپی ملکوں میں عبادت گاہوں خصوصاً مساجد کی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے حملے کو نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ان کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا ’’اسلاموفوبیا‘‘ کارفرما ہے جس کے تحت دہشت گردی کی ہرواردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب مسلمانوں کے سر تھوپنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کیلئے بھی یہ حربہ آزمایا گیا۔ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تکثیری اور جمہوری معاشرے میں نفرت اور تشدد کےلئے کوئی جگہ نہیں۔ نیوزیلینڈ کی وزیر اعظم کے نام ایک مکتوب میں مسٹر مودی نے خوفناک حملے میں مارے جانیوالوں کے کنبوں کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ترجمان ابراہیم کلن نے واقعے کو فسطائیت اور نسل پرستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عداوت کس حد تک پہنچ گئی ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو اب اس ’’اسلاموفوبیا‘‘اور اس کی بنیاد پر ہونے والی کھلی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے واقعے پر شدید دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ گرفتار ہونے والا حملہ آور آسٹریلوی شہری ہے جو ان کے بقول ’’شدت پسند اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا دہشت گرد‘‘ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ شہریار عالم نے کہا ہے کہ یہ بہت خوش قسمتی کی بات ہے کہ حملے میں ان کے ملک کی کرکٹ ٹیم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ میچ کے لیے کرائسٹ چرچ میں تھی اور ٹیم کے کھلاڑی نمازِ جمعہ کیلئے مسجد پہنچے ہی تھے کہ وہاں فائرنگ ہوگئی۔ فائرنگ کے باعث ٹیم کا ڈرائیور بس کو وہاں سے بھگا لے گیا تھا۔ ملائیشیا کے حکمراں اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت کے سربراہ انور ابراہیم نے اپنے ایک شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کو ’’انسانیت اور امنِ عالم کیلئے سیاہ المیہ‘‘قرار دیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے بانی کمال فاروقی نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کا کہا ہے کہ ’’مسلم مخالف وائرس‘‘پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور دنیا کے دیگر مذاہب کو اس بارے سوچنا ہوگا۔ واقعے کے سوگ میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے اپنے پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں