کشمیری طلبہ کے تحفظ کیلئے گورنرکے اقدامات

ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک کی طرف سے بیرون ریاست تعلیم پانے والے طلبہ کے تحفظ، ان کے تعلیمی کئیریر کو بچانے اور دیگر معاملات کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے اور ان کے مسایل کو حل کروانے کےلئے افسروں کی ٹیم تشکیل دینے کے اعلان کا لوگوں کی طرف سے خیر مقدم کیاجارہا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گورنر نے افسروں کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے اور ان کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دہرادون، اتراکھنڈ اور ایسی دوسری ریاستوں میں جاکر اُن کالج منتظمین کے ساتھ تبادلہ خیال کریں جہاں کشمیری طلبہ اور طالبات زیر تعلیم تھے اور جن کو ان کالجوں سے زبردستی نکالا گیا جس کی بنائ پر وہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر اور اپنی جانیں بچا کر واپس گھروں کو لوٹ آئے ہیں۔ افسروں کی یہ ٹیم طلبہ کی سلامتی ، کورسوں کی بروقت تکمیل، طلبہ کی حاضری اور چھوڑے ہوئے لیکچروں کی بھرپائی جیسے معاملات پر کالج انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ اسکے علاوہ افسروں کی یہ ٹیم طلبہ کے تحفظ سے متعلق مختلف امور اور اس سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی کالج منتظمین کے ساتھ تبادلہ خیال کرے گی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ14فروری کو لیتہ پورہ میں پیش آئے ہوئے واقعے کے فوراًبعد پنجاب، ہریانہ، راجستھان، ڈہرہ ڈون،اتراکھنڈ، مہاراشٹر، یوپی، دہلی اور دوسری کئی ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ اور طالبات پر شر پسند عناصر نے دھاوابول کر ان کی نہ صرف مار پیٹ کی بلکہ ان کو ڈرا دھمکا کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔ ڈہر اڈون کے ایک معروف کالج میں زیر تعلیم طلبہ نے انکشاف کیا کہ اگر وہ راتوں رات بھاگ نہیں جاتے تو ان کوجانوں کو خطرہ لاحق تھا کیونکہ کالج انتظامیہ کی طرف سے طلبہ کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا اور باہر سے شر پسند عناصر نے سیدھے ہوسٹل کمروں میں گھس کر طلبہ پر حملے کئے۔ لیکن اب جبکہ گورنر نے ان طلبہ کے مسایل سے جانکاری حاصل کی اور افسروں کی ٹیم کو ان طلبہ کے متذکرہ بالا مسایل کوحل کرنے کا کام سونپاتو اس کا اگرچہ ان طلبہ اور ان کے والدین نے خیر مقدم کیا لیکن افسروں کی ٹیم کو سب سے پہلے کالج منتظمین کے ساتھ کشمیری طلبہ اور طالبات کے تحفظ کا معاملہ اٹھانا چاہئے۔ ہوسٹلوں میں اس قسم کا انتظام ہونا چاہئے کہ کسی بھی صورت میں باہر کا آدمی اندر نہ آنے پائے۔ اس پر کالج منتطمین کو عمل کرنے کی تلقین کرنی چاہئے کیونکہ کشمیری طلبہ لاکھوں روپے بطور فیس ادا کرتے ہیں وہ ان کالجوں میں کوئی وظیفہ لے کر یا مفت تعلیم حاصل کرنے نہیں جاتے ہیں۔ یہ کالج انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری طلبہ کو محفوظ ماحول فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ہی چھوٹے ہوئے لیکچروں کی بھر پائی اور امتحانات وغیرہ جیسے مسایل کا بھی حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان طلبہ کے والدین کا کہنا ہے کہ ڈہراڈون کے اس کالج کے منتظمین سے اس بارے میں جواب طلبی کی جانی چاہئے کہ ا نہوںنے کس طرح رات کے دوران کشمیری طلبہ اور طالبات کو زبردستی کالج ہوسٹلوں سے نکل جانے کےلئے کہا۔ اسی طرح کے دوسرے مسایل ہیں جن کو حل کروانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ اسی صورت میں کالج کے طلبہ اور طالبات واپس ان کالجوں میں جاینگے جب ان کے جانوں کو بھر پور تحفظ کی گارنٹی دی جائے گی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں