بات چیت کے بارے میں گورنر کا مثبت رویہ

ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے اجمیر شریف درگاہ پر چادر چڑھانے اور عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے موقعے پر اخباری نمایندئوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے امید ظاہرکی کہ کشمیر میں مستقبل قریب میں امن قائم ہوگا اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ وہ کشمیر میں ہر ایک سے بات چیت کےلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں پورے احترام و عزت کے ساتھ بات چیت کی سیاسی پارٹیوں کو دعوت دیتا ہوں تاکہ اس ریاست میں امن قائم ہوسکے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ انہوں نے غریب نواز کی بار گاہ پر دعامانگی کہ انہیں اپنے منصوبوں میں کامیابی حاصل ہو۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان رشتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ وہ اس موضوع پر کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ دو ملکوں کی حکومتوں کاکام ہے کہ وہ کب بات چیت کا سلسلہ شروع کریں۔ جہاں تک گورنر کی اخباری نمایندئوں کے ساتھ بات چیت کا تعلق ہے تو انہوں نے سیاسی پارٹیوں کو مذاکرات کی دعوت دی۔ عام کشمیریوں کا کہنا ہے کہ وہ بات چیت میں یقین رکھتے ہیں اور ہر مسئلہ صرف بات چیت سے ہی حل کیاجاسکتا ہے۔ کشمیر میں بھی بات چیت لازمی ہے اور بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی مسایل کاحل تلاش کرنے کےلئے بھی بات چیت ضروری قرار دی جاسکتی ہے۔ جب سے لیتہ پورہ کا واقعہ پیش آیا تب سے وادی میں حالات انتہائی پیچیدہ بنے ہوئے ہیں اور چھاپوں، تلاشیوں اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے اسی دوران مرکز نے جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دے کر اس پر پانچ برس تک پابندی عاید کردی ہے۔ اسی کے ساتھ جماعت سے وابستگی رکھنے والے ساڑھے تین سو رہنمائوںکارکنوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اور ان کے اثاثے بھی منجمد کردئے گئے ہیں۔ اس سے بھی وادی کے لوگوں میں زبردست غم و غصہ پیدا ہوگیا ہے۔ جہاں مین سٹریم سیاسی جماعتوں نے اس پر احتجاج کیا وہیں پر مزاحمتی قیادت نے بھی اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاجروں کی نمایندہ انجمن کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینو فیکچررز فیڈریشن جس کی قیادت محمد یاسین خان کررہے ہیں نے کئی دوسری انجمنوں کے رہنمائوں کے ساتھ ملکر مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا۔ تاجرانجمنوں نے جماعت پر پابندی کےخلاف بطور احتجاج آج یعنی 5مارچ کو کشمیر بندھ کا اعلان کردیا اور کہا کہ مرکزی سرکار کے اس فیصلے کےخلاف بھر پور احتجاج کیاجائے گا۔ اسی طرح گرفتار نوجوانوں کا مسئلہ بھی ہے اور بھی کئی مسایل ہیں جن کو فوری طور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ گورنر کے حالیہ بیان سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کشمیر کے مسایل حل کرنے میں یقین رکھتے ہیں اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ کشمیر اور کشمیریوں کو درپیش سارے مسایل کا احاطہ کرکے ان کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ جن میں جماعت اسلامی پر پابندی ہٹانے کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ اس وقت جبکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں پھر بھی دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ناگزیر ہے۔ جنگ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی ہوگا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں