افغانستان میں دفتر کھولنے کی پیشکش طالبان نے مسترد کر دی، دوحا میں موجود دفتر تسلیم کرنے کا مطالبہ

کابل/ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے ملک کے کسی بھی شہر میں دفتر کھولنے کیلئے تیار ہیں۔ تاہم طالبان نے صدر اشرف غنی کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری دوحا میں موجود طالبان کے دفتر کو تسلیم کرے۔ صوبہ ننگرہار کا دورہ کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ وہ افغانستان میں باوقار اور دیرپا امن لانا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ ماہ قطر میں امریکہ اور افغان طالبان کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا اور ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری اس جنگ کے اختتام کے حوالے سے اہم پیش رفت تو ہوئی اور امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق بھی ہوا تاہم کوئی حتمی امن معاہدہ طے نہ پا سکا ہے۔ کابل میں کچھ حلقوں میں اس حوالے سے ناراضگی پائی جاتی ہے کہ افغان طالبان افغان حکومت سے بات چیت کرنے پر راضی نہیں بلکہ وہ صرف امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی افغان صدر نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی نئی پیشکش کی تھی، لیکن انہوںنے حکومت کو ’کٹھ پتلی‘کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی۔ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے رہنما شیر محمد عباس ستنکزئی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ طالبان افغانستان پر بزورِ طاقت قبضہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پورے ملک پر پر قبضہ کرنا نہیں چاہتے۔ اس سے افغانستان میں امن نہیں آئے گا‘۔ تاہم شیر محمد عباس ستنکزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔ دریں اثنائ امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغا ن مفاہمت زلمے خلیل زاد ا فغان تنازع کے حل کی کوششوں کی سلسلے میں ایک بار پھر پر کئی اہم ممالک کے دورے پر روانہ ہوگئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں