فوجی افسران کے خلاف چار ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

اسلام آباد/ پاکستان کی سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے مقدمے میں حکم دیا ہے کہ اس معاملے میں ملوث فوجی افسران کے خلاف چار ہفتے میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سوموار کو اسلام آباد میں اس معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ فوجی افسران کے خلاف کورٹ مارشل کارروائی شروع کیوں نہیں ہوئی جس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے جواب دیا کہ تحقیقات میں شواہد سامنے آنے پر کورٹ مارشل ہو گا۔ جسٹس گلزار نے یہ سوال بھی کیا کہ اس کیس میں الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو بھی پیسے ملے تھے، مگر ان کا نام سامنے کیوں نہیں آیا اور نہ ہی ایف آئی اے رپورٹ میں اس کا ذکر ہے۔ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں الطاف حسین کا نام تھا۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ بانی ایم کیو ایم اور چند دیگر ملزمان کی حوالگی کے لیے بات چیت جاری ہے اور بہت جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔ خیال رہے کہ ایف آئی اے نے سنیچر نو فروری کو اصغر خان کیس کے حوالے سے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں عدالت سے مدد مانگتے ہوئے رہنمائی طلب کی گئی تھی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں