آسٹریلیا اور بھارت کے مابین پہلا ون ڈے میچ آج پہلے ون ڈے سے پانڈیا اور راہل باہر

سڈنی/یو این آئی/ ایک ٹی وی شو میں خواتین کو لے کر انتہائی نامناسب تبصرہ کرنے کے معاملے میں پھنسے آل راؤنڈر ہردک پانڈیا اور بلے باز لوکیش راہل آج آسٹریلیا کے خلاف سڈنی میں ہونے والے پہلے ون ڈے سے باہر ہو گئے ہیں۔آسٹریلیا میں تاریخی ٹیسٹ سیریز فتح حاصل کرنے کے بعد حوصلے کے ساتویں آسمان پر پہنچی ٹیم انڈیا کو آل راؤنڈر پانڈیا کے متنازعہ کیس سے باہر ہونے سے اگرچہ گہرا جھٹکا لگا ہے ۔پانڈیا کو بتا دیا گیا تھا کہ انہیں آخری الیون سے باہر کر دیا گیا ہے جبکہ راہل اپنی خراب فارم کی وجہ سے آخری الیون سے پہلے ہی باہر تھے ۔پانڈیا نے ایک ٹی وی شو میں خواتین سے متعلق انتہائی نامناسب تبصرہ کیاتھا جس کی آل راؤنڈ پر تنقید ہو رہی ہے ۔ ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ ﴿بی سی سی آئی﴾ کا آپریشن دیکھ رہی منتظمین کی کمیٹی نے اس شو کا حصہ رہے پانڈیا کے ساتھ ساتھ بلے باز لوکیش راہل پر دو ون ڈے میچوں کی پابندی لگانے کی سفارش کی ہے ۔ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے اس معاملے پر میچ کی شام کہا تھا کہ یہ پانڈیا اور راہل کے ذاتی خیالات ہیں اور ٹیم کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ہندستانی ٹیم اس طرح کی باتوں کے سخت خلاف ہے اور یہ بات ہم نے ان کھلاڑیوں کو بھی بتا دی ہے ۔ ہمیں ان پر کیے جانے والے فیصلے کا انتظار ہے ۔اس معاملے نے ہندوستانی کپتان کے لئے سردرد بڑھا دیا ہے ۔ پانڈیا کی تیز بولنگ کا آل راؤنڈر کے طور پر ٹیم میں اھم کردار ہے لیکن جو موجودہ حالت ہیں ٹیم ان کے آخری الیون میں انتخاب سے بچنا چاہے گی۔ پانڈیا گذشتہ ستمبر میں ایشیا کپ میں لگی چوٹ کے بعد ٹیم سے باہر تھے اور انہیں چوٹ پر قابو پانے کے بعد آخری دو ٹسٹ میچوں کے لئے ٹیم میں شامل کیا گیا تھا لیکن انہیں کوئی ٹیسٹ کھیلنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ ہندستان نے ٹیسٹ سیریز 2-1 سے جیت کر گزشتہ 71 سالوں میں پہلی بار آسٹریلوی زمین پر ٹیسٹ سیریز جیتنے کی تاریخ رقم کی تھی۔ون ڈے سیریز کے لئے پانڈیا کا آخری الیون میں کھیلنا طے تھا لیکن اب ان کے انتخاب پر شک بنا ہوا ہے اور کپتان پانڈیا کو لے کر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے بی سی سی آئی کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔ راہل کی ٹیسٹ سیریز میں جیسی خراب فارم رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے ان کا ویسے بھی الیون میں انتخاب نہیں کیا جانا تھا۔ہندستانی ٹیم کے پاس ون ڈے کے لئے اچھا بلے بازی لائن اپ ہے اور پانڈیا کی جگہ لینے کے لئے آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ موجود ہیں جن کی ٹیسٹ سیریز میں قابل ستائش کارکردگی رہی تھی۔پہلے ون ڈے میں سب سے زیادہ نگاہیں وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی پر رہیں گی جنہیں ون ڈے ٹیم کے ساتھ ساتھ ٹوئنٹی -20 ٹیم میں بھی شامل کیا گیا ہے ۔ دھونی اپنے بلے سے مایوس کن دور سے گزر رہے ہیں اور ورلڈ کپ کے لئے انہیں اپنی فارم حاصل کرنی ہے تاکہ وہ اپنے فنشر کے کردار پر پھر سے کھرے اتر سکیں۔ون ڈے ٹیم کے نائب کپتان روہت شرما بھی کہہ چکے ہیں کہ دھونی ورلڈ کپ کے متبادل میں شامل ہیں۔ لیکن سابق ہندوستانی کپتان کو اپنی فارم ثابت کرنی ہوگی ورنہ فلاپ رہتے ہی ان پر دوبارہ سوال اٹھنے شروع ہو جائیں گے ۔
ٹیم میں دوسرے وکٹ کیپر بلے باز دنیش کارتک موجود ہیں جو اگر الیون کا حصہ بناتے ہیں تو وہ خالصتا بلے باز کے طور پر کھیلیں گے ۔
روہت اور شکھر دھون کی قابل اعتماد جوڑی اننگ کی شروعات کرے گی۔ والد بنے روہت اپنی دوسری اننگز کا آغاز شاندار انداز میں کرنا چاہتے ہیں جبکہ ٹیسٹ ٹیم سے نظر انداز رہے شکھر اس کی تلافی ون ڈے میں کرنا چاہتے ہیں۔ کپتان وراٹ کو ون ڈے میں روکنا آسٹریلوی گیند بازوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔
پانڈیا کے ساتھ راہل پر بھی شک رہنے کی صورت میں ٹیم کیدار جادھو اور کارتک کو بلے بازی آرڈر میں آگے اتارے گی جبکہ دھونی چھٹے اور جڈیجہ ساتویں نمبر پر اتریں گے ۔ کپتان ایک بار پھر اسپن کے لئے اپنی کلائی کے دو جادوگروں یجویندر چہل اور کلدیپ یادو پر انحصار کریں گے ۔ اگر جڈیجہ کھیلتے ہیں تو ان میں سے ایک اسپنر کو باہر رہنا پڑ سکتا ہے ۔
تیز گیند بازی میں ہندستان کے پاس یارکرمین جسپریت بمراہ کی خدمات نہیں ہوں گی جنہیں محدود شکل سے فی الحال آرام دیا گیا ہے ۔ تیز گیند بازوں میں بھونیشور کمار، محمد سمیع اور خلیل احمد اتریں گے ۔ بھونیشور کو مکمل ٹیسٹ سیریز میں موقع نہیں دیا گیا تھا اس لئے وہ کچھ کر دکھانے کے لئے بے چین ہوں گے ۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز خلیل کے لئے بھی ورلڈ کپ کی اپنی دعویداری مضبوط کرنے کا یہ شاندار موقع ہے ۔ خلیل کو آسٹریلیا اندیز کی پچیں خاص طور پر راس آئیں گی۔
ہندستان سے اپنی زمین پر پہلی بار ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد آسٹریلوی ٹیم واپسی کرنے کے لئے بے چین ہو گی اور ون ڈے سیریز میں اچھا آغاز کرنا چاہے گی۔ ہندستان اور آسٹریلیا کے درمیان اب تک 128 ون ڈے کھیلے گئے ہیں جس میں ہندستان نے 45 جیتے ہیں اور 73 ہارے ہیں۔
ہندستان نے آسٹریلیا میں کھیلی پچھلی ون ڈے سیریز 1-4 سے گنوائی تھی اور وراٹ اس شکست کا حساب کتاب اس سیریز میں برابر کرنا چا ہیں گے ۔
 میں شامل کیا گیا تھا لیکن انہیں کوئی ٹیسٹ کھیلنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ ہندستان نے ٹیسٹ سیریز 2-1 سے جیت کر گزشتہ 71 سالوں میں پہلی بار آسٹریلوی زمین پر ٹیسٹ سیریز جیتنے کی تاریخ رقم کی تھی۔
ون ڈے سیریز کے لئے پانڈیا کا آخری الیون میں کھیلنا طے تھا لیکن اب ان کے انتخاب پر شک بنا ہوا ہے اور کپتان پانڈیا کو لے کر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے بی سی سی آئی کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہتے ہیں۔ راہل کی ٹیسٹ سیریز میں جیسی خراب فارم رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے ان کا ویسے بھی الیون میں انتخاب نہیں کیا جانا تھا۔
ہندستانی ٹیم کے پاس ون ڈے کے لئے اچھا بلے بازی لائن اپ ہے اور پانڈیا کی جگہ لینے کے لئے آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ موجود ہیں جن کی ٹیسٹ سیریز میں قابل ستائش کارکردگی رہی تھی۔
پہلے ون ڈے میں سب سے زیادہ نگاہیں وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی پر رہیں گی جنہیں ون ڈے ٹیم کے ساتھ ساتھ ٹوئنٹی -20 ٹیم میں بھی شامل کیا گیا ہے ۔ دھونی اپنے بلے سے مایوس کن دور سے گزر رہے ہیں اور ورلڈ کپ کے لئے انہیں اپنی فارم حاصل کرنی ہے تاکہ وہ اپنے فنشر کے کردار پر پھر سے کھرے اتر سکیں۔
ون ڈے ٹیم کے نائب کپتان روہت شرما بھی کہہ چکے ہیں کہ دھونی ورلڈ کپ کے متبادل میں شامل ہیں۔ لیکن سابق ہندوستانی کپتان کو اپنی فارم ثابت کرنی ہوگی ورنہ فلاپ رہتے ہی ان پر دوبارہ سوال اٹھنے شروع ہو جائیں گے ۔ ٹیم میں دوسرے وکٹ کیپر بلے باز دنیش کارتک موجود ہیں جو اگر الیون کا حصہ بناتے ہیں تو وہ خالصتا بلے باز کے طور پر کھیلیں گے ۔
روہت اور شکھر دھون کی قابل اعتماد جوڑی اننگ کی شروعات کرے گی۔ والد بنے روہت اپنی دوسری اننگز کا آغاز شاندار انداز میں کرنا چاہتے ہیں جبکہ ٹیسٹ ٹیم سے نظر انداز رہے شکھر اس کی تلافی ون ڈے میں کرنا چاہتے ہیں۔ کپتان وراٹ کو ون ڈے میں روکنا آسٹریلوی گیند بازوں کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔
پانڈیا کے ساتھ راہل پر بھی شک رہنے کی صورت میں ٹیم کیدار جادھو اور کارتک کو بلے بازی آرڈر میں آگے اتارے گی جبکہ دھونی چھٹے اور جڈیجہ ساتویں نمبر پر اتریں گے ۔ کپتان ایک بار پھر اسپن کے لئے اپنی کلائی کے دو جادوگروں یجویندر چہل اور کلدیپ یادو پر انحصار کریں گے ۔ اگر جڈیجہ کھیلتے ہیں تو ان میں سے ایک اسپنر کو باہر رہنا پڑ سکتا ہے ۔
تیز گیند بازی میں ہندستان کے پاس یارکرمین جسپریت بمراہ کی خدمات نہیں ہوں گی جنہیں محدود شکل سے فی الحال آرام دیا گیا ہے ۔ تیز گیند بازوں میں بھونیشور کمار، محمد سمیع اور خلیل احمد اتریں گے ۔ بھونیشور کو مکمل ٹیسٹ سیریز میں موقع نہیں دیا گیا تھا اس لئے وہ کچھ کر دکھانے کے لئے بے چین ہوں گے ۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز خلیل کے لئے بھی ورلڈ کپ کی اپنی دعویداری مضبوط کرنے کا یہ شاندار موقع ہے ۔ خلیل کو آسٹریلیا اندیز کی پچیں خاص طور پر راس آئیں گی۔
ہندستان سے اپنی زمین پر پہلی بار ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد آسٹریلوی ٹیم واپسی کرنے کے لئے بے چین ہو گی اور ون ڈے سیریز میں اچھا آغاز کرنا چاہے گی۔ ہندستان اور آسٹریلیا کے درمیان اب تک 128 ون ڈے کھیلے گئے ہیں جس میں ہندستان نے 45 جیتے ہیں اور 73 ہارے ہیں۔
ہندستان نے آسٹریلیا میں کھیلی پچھلی ون ڈے سیریز 1-4 سے گنوائی تھی اور وراٹ اس شکست کا حساب کتاب اس سیریز میں برابر کرنا چاہتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں