یورپ میں مسلمان اور یہودی ذبیحہ کے معاملے پر اکٹھے

سرینگر/ مانٹرنگ/یورپ میں مسلمانوں اور یہودیوں میں زیادہ اتفاق نہیں پایا جاتا لیکن حال ہی میں وہ ایسے قوانین کے خلاف اکھٹے ہوئے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ قوانین ان کے مذہبی آزادی پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ حالیہ تنازع رواں برس کے آغاز میں کو بلجیم میں اس قانون کے نفاذ کے بعد سامنے آیا جس نے جانوروں کو روایتی طریقے سے ذبح کرنے پر اثر ڈالا جو کہ کوشر اور حلال گوشت کے لیے ضروری ہے۔ جانورں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت عرصے سے اس قانون کے لیے آواز اٹھا رہے تھے لیکن یہودی اور مسلمان رہنماؤں نے اس قانون کو لبرل ایجنڈے کے بھیس میں یہودیوں اور مسلمانوں کے خلاف کوشش قرار دیا تھا۔ جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس عمل سے جانوروں کو موت کے وقت غیر ضروری اذیت سے گزرنا پڑتا ہے لیکن مذہبی رہنما زور دیتے ہیں کہ یہ طریقہ کار غیر تکلیف دہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے جانور کی فوری موت واقع ہو جاتی ہے اور جانور کو تکلیف سے بچانے کے لیے صدیوں سے اس طریقہ کار کو بہتر بنایا گیا ہے۔ دونوں جانب کے دلائل میں توازن رکھنے کی لیے بعض یورپی ممالک جیسے کہ ہالینڈ، جرمنی، سپین اور قبرص نے مذہبی ذبح خانوں پر سخت قوانین لاگو کر رکھے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں