برفباری اور شہر کا ناقص ڈرینج سسٹم

 کل یعنی اتوار کو دوسرے دن بھی وادی میں معمولات زندگی بحال نہیں ہوسکے اور روز مرہ کی زندگی متاثر رہی۔ اگرچہ بڑی سڑکوں سے برف ہٹائی گئی لیکن چھوٹی اور رابطہ سٹرکیں اتوار کو بھی بر ف سے ڈھکی رہیں لیکن موسم کچھ مہربان ساہوگیا اور اسطرح درجہ حرارت میں اضافے سے برف پگھلنے لگی جس کی وجہ سے راستے بھی کھلنے لگے۔ لیکن سڑکیں پانی سے لبا لب بھری ہوئی ہیں جبکہ شہر و گام نشیبی علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ پانی کی نکاسی کا کچھ ایسا بندوبست کیاجانا چاہئے تاکہ مستقبل میں لوگوں کو کسی بھی قسم کی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سب سے پہلے شہر کے ڈرینیج سسٹم کی طرف بھر پور توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ شہر میں اکثر سڑکیں پانی سے بھر ی رہتی ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ڈرینیج سسٹم کو ابھی تک اپ ٹو ڈیٹ نہیں کیا جاسکا ہے۔ جب بھی بارش یا برفباری ہوتی ہے تو سڑکوں پر اس قدر پانی جمع ہوجاتا ہے جس سے عبور و مرور مشکل بن جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پانی کی نکاسی یعنی ڈرینیج سسٹم ابھی تک ناکارہ ہے اور اس کو جدید لائینوں استوار کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاسکی۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ شہر میں نالیوں اور ڈرینوں پر خود غرض عناصر نے نا جائیز قبضہ کررکھا ہے۔ دکانوں کے ٹھرے کنکریٹ بنائے گئے جس وجہ سے پانی کا بہاورک جاتا ہے اور یہ بھی سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی ایک وجہ ہے۔ اسی طرح نشیبی علاقوں سے بھی پانی کی نکاسی کا کوئی ایسا بندو بست نہیں کیاجاسکاہے۔ جس سے ہمیشہ کیلئے یہ مسئلہ حل ہوسکتا اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر اور بڑے بڑے قصبہ جات میں ایسا ڈرینیج سسٹم قایم کیا جائے تاکہ پانی کی نکاسی ممکن ہوسکے اور لوگوں کو بارشوں یا برفباری کے دوران زیادہ مشکلات پیش نہ آسکیں۔ سال 2014کے قہر انگیز سیلاب کے بعد اس وقت کی ریاستی حکومت نے جہلم کی ڈریجنگ کرنے کا فیصلہ اسلئے کیاتاکہ سیلاب کی صورت میں جہلم میں زیادہ سے زیادہ پانی سماسکے۔ کللکتہ کی ایک فرم کو ٹھیکہ دیا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس فرم نے قابل ذکر کام نہیں کیا بلکہ جہلم کی ڈریجنگ کے نام پر مذاق کیاگیا چنانچہ اس وقت کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اگرچہ اس فرم کیخلاف کاروائی کا اعلان بھی کردیا لیکن بعد میں معلوم نہیں ہوسکا ہے ڈریجنگ کا کیا ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر کے بیچوں بیچ جو نالہ یعنی نالہ مار بہتا تھا وہ شہر کیلئے ڈرینیج کا کام دیتا تھا اور اس وقت کی حکومت نے اس کی بھرائی کرکے دانشمندانہ فیصلہ نہیں کیا اس طرح قدرتی ڈرینیج نظام خود ہم نے ختم کردیا۔ اب جہلم کا بھی ویسا ہی حال ہورہا ہے کیونکہ اگر اس کی مناسب ڈریجنگ کے سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا تو معمولی بارشوں سے بھی شہر ڈوب سکتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ نوعیت کا معاملہ ہے جس کی طرف گورنر انتظامیہ کو توجہ دینی چاہئے اگر اس وقت ڈریجنگ کے بارے میں اقدام نہیں اٹھایا جائے گا تو پھر منتخب حکومت کا انتظار کرنا پڑے گا اور اس کے بعد بھی یہ معلوم نہیں کہ آنے والی منتخب حکومت کی ترجیحات میں کیا ہوگا اور آیا وہ جہلم کی ڈریجنگ کروائی گی یانہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں