شہرسرینگر میں گندگی اور غلاظت,

,

آج کل سرینگر کا حال بے حال ہے ہر طرف گندگی اور غلاظت کے ڈھیر جن پر چیل کوے دن بھر منڈلاتے رہتے ہیں اورکوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر کتوں کی فوج نظر آتی ہے جن کی موجودگی کی بنا ئ پر وہاں سے چلنا مصیبت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ میونسپل ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے شہر کی حالت انتہائی خراب ہوگئی ہے۔ اہم مقامات پر گندگی اور غلاظت کی وجہ سے بدبو پھیل گئی ہے اور بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھنے لگا ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر مزید ایک دو دن تک صورتحال ایسی ہی رہے گی تو خطرنا ک اور لاگ دار بیماریاں جنم لے سکتی ہیں جن پر بعد میں قابو پانا مشکل ہوسکتا ہے اورخاص طور پر بچوں کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جگہ جگہ گندگی اور غلاضت کے جو ڈھیر نظر آتے ہیں ان سے بچے بیمار ہوسکتے ہیں اور سرمائی ایام میں بچے ویسے بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اسلئے اگر فوری طور پر شہر میں کوڑے کرکٹ کونہیں ہٹایا گیا تو بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ شہر میں ایسا کیوں ہوا ہے؟ کچھ روز قبل کارپوریشن کی ایک خاتون کارپوریٹر نے میئر پر شدید نوعیت کے الزامات عاید کئے۔ اس کے علاوہ اس خاتون کارپوریٹر پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے نہ صرف میئر کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی بلکہ اس کے پی اے جو کہ میونسپلٹی کا ملازم ہے کی مارپیٹ کی۔ جس پر میونسپلٹی کے ملازمین نے ہڑتال کر رکھی ہے۔ اس خاتون کارپوریٹر نے اس پر لگاے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ایک سازش کے تحت میونسپلٹی کو سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ مئیر نے ڈپٹی مئیر پر الزامات عاید کئے جبکہ ڈپٹی مئیر نے مئیر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ غرض واقعی اس عوامی اہمیت کے حامل ادارے کو سیاست کا اکھاڑہ بنا کر اس کی اہمیت اور افادیت خاک میں ملادی گئی۔ میونسپلٹی کا مئیر ہو یا ڈپٹی مئیر ،کارپوریٹر ہو یا ملازم کسی کو بھی عوامی مشکلات کا احساس یا فکر نہیں۔ سرینگر کے دل لال چوک کی حالت اس وقت ناقابل بیان ہے کیونکہ لال چوک کوڑے دان میں تبدیل ہوا ہے ۔اسی طرح شہر کے سب کے سب چوراہے ، سڑکیں اور گلیاں کوڑے کرکٹ سے بھر گئی ہیں۔ اگر ان کو عوامی مشکلات کا ذرابھر بھی احساس ہوتا تو وہ اپنے مسایل یا لڑائیاں میونسپلٹی کی چار دیواری تک ہی محدود رکھتے لیکن لوگوں کو کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آنے دیتے۔ مئیر ہوں یا ڈیپٹی مئیر کارپوریٹر ہوں یا میونسپلٹی کے افسر ہوں یا ملازمین سب کے سب عوامی عدالت میں جوابدہ ہیں۔ لوگ اس وقت زبر دست مشکلات اور عذاب میں مبتلا ہیں ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر حالات پر فوری طور قابو نہیں پایا جائے گا تو خطرناک بیماریاں پھیل سکتی ہیں اسلئے ہڑتال کو ختم کرکے شہر میں موجودہ گندگی اور غلاظت کو فوری طور ہٹایا جانا چاہئے تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے۔ لوگ اس معاملے میں گورنر کی مداخلت چاہتے ہیں۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں