اب ہماچل میں کشمیریوں پر حملے

بیرون ریاست کشمیری طلبہ پر حملوں کے بعد اب کشمیری تاجروں پر حملوں کے بارے میں خبرسے پوری وادی میں شدید غم و غصے کا اظہار کیاجارہا ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات اب روز کا معمول بنتے جارہے ہیں اور کل ہی کشمیر چیمبر اور دوسری تاجر انجمنوں نے اس طرح کے واقعات کو ناقابل برداشت قرار دیا اور کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہے گا تو وہ اس کیخلاف بھر پور احتجاج کرینگے جس میں پوری وادی کے لوگ شامل ہونگے ۔شملہ واقعات کے بارے میں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق شملہ کے ایک قریبی علاقے روہڈو میں ایک مشتعل ہجوم نے کشمیری تاجروں کی دکانوں کو لوٹا اور دکانداروں کی مارپیٹ کی۔ کشمیری دکاندار یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جن لوگوں نے کشمیری دکانداروں کی مارپیٹ کی اور دکانوں کو لوٹا ان کے ساتھ پولیس بھی تھی لیکن وہ کشمیری تاجروں کو بچانے کے بجائے غنڈوں کی مبینہ طور مدد کررہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بدمست غنڈے بعد میں ایک تعلیمی ادارے میں گئے اور وہاں کشمیری طلبہ کو باہر نکال کر ان کو بھی مارا پیٹا۔ تب سے آج تک کشمیری تاجر جن کا تقریباً ایک کروڑ کا مال دکانوں میں موجود تھا اور جسے غنڈوں نے لوٹ لیا کسمپرسی کی حالت میں پڑے ہیں۔ ہماچل کے وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر نے کل ہی بتایا کہ پولیس تحقیقات کررہی ہے اور جوں ہی کچھ معلوم ہوگا کاروائی کی جائے گی لیکن تعجب اس بات کا ہے کہ ہر روز غنڈے وہاں آکر کشمیری تاجروں کو فوری طور ہماچل سے نکل جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ان کو بتایا جارہا ہے کہ کشمیریوں کو کسی بھی صورت میں ہماچل میں رہنے نہیں دیاجائے گا۔اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور شراب کے نشے میں بد مست ہوکر روزانہ بازار میں نمودار ہوتے ہیں اور کشمیریوںکو دھکمیاں دے کر چلے جاتے ہیں لیکن پولیس ان کیخلاف کوئی کاروائی نہیں کررہی ہے کیونکہ پولیس ان کے ساتھ ہوتی ہے ۔ ہماچل کے وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ تحقیقات ہورہی ہے پوچھا جاسکتا ہے کہ اتنے دنوں تک تحقیقات کیونکر مکمل نہیں ہوسکی ہے۔ اور اس وقت بھی کشمیری تاجروں اور طلبہ کو دھکمیاں دینے والے کون لوگ ہیں جو قصبے میں آزاد گھوم رہے ہیں۔ طلبہ نے بھی بتایا کہ وہ بھی ہماچل میں اب خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔ راجستھان، دہلی، یوپی، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور پنجاب کے بعد اب ہماچل میں اس طرح کشمیری تاجروں اور طلبہ پر جو قاتلانہ حملے کئے جارہے ہیں اس سے کشمیری عوام میں فکر و تشویش کا اظہار کیاجارہا ہے۔ تعجب تو اس بات کا ہے کہ جو لوگ کشمیریوں پر حملوں کے مرتکب ہورہے ہیں ان میں سے کسی ایک کیخلاف بھی کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جارہی ہے۔ کشمیری طلبہ پر قاتلانہ حملوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کے باوجود وہ آزاد گھوم رہے ہیں ان کو نہ پولیس اور نہ ہی حکومت کی کوئی پروا ہے کیونکہ ایک مخصوص سیاسی پارٹی کی مکمل طور پر پشت پناہی حاصل ہے یہ لوگ بیرون ریاست کشمیری تاجروں اور کشمیری طلبہ اکثر و بیشتر حملوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ابھی تک معلوم نہیں کہ کیا کشمیر کے ڈائیریکٹر جنرل پولیس نے ہماچل میں اپنے ہم منصب کے ساتھ اس معاملے پر رابطہ قایم کیا ہے یانہیں لیکن اگر کیا ہوگا تو روز شراب کے نشے میں دھت لوگ کشمیری تاجروں کو دھمکیاں دینے نہیں آتے۔ اسلئے بیرون ریاست کشمیری تاجروں، طلبہ اور ملازمین کو بچانے کیلئے گورنر انتظامیہ کو فوری طور مناسب اور موثر اقدامات اُٹھانے چاہئیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں